ممتاز سیاستداں اجمل خٹک چل بسے

اجمل خٹک
Image caption برطانوی نوآبادیاتی دور میں ’بھارت چھوڑو‘ تحریک چلی تو انہوں نے کارکن کی حیثیت سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا

پاکستان کے بزرگ ترقی پسند سیاستدان، نامور پشتو شاعر، صحافی اور قوم پرست جماعت عوامی نشینل پارٹی کے سابق مرکزی صدر اجمل خٹک انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر پچاسی برس تھی۔

عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سرحد کے سیکرٹری اطلاعات ارباب محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اجمل خٹک اتوار کی شام اپنے آبائی گاؤں اکوڑہ خٹک میں طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اجمل خٹک کے انتقال پر صوبہ بھر میں تین دن کے لیے سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ اس دوران تمام اضلاع میں مختلف تقاریب منعقد کی جائیں گی جس میں اجمل خٹک کے خدمات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ وہ گزشتہ ایک دو سالوں سے علیل تھے جس کی وجہ سے انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

اجمل خٹک کی زندگی کے کئی پہلو ہیں۔ ان کا کیرئیر بحثیت سیاستدان، شاعر، ادیب اور صحافی کے تقریباً چالیس سے پچاس سالوں پر محیط رہا ہے۔

وہ پندرہ دسمبر 1925 کو ضلع نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ اجمل خٹک نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سترہ سال کی عمر میں 1942 میں ’انڈیا چھوڑو تحریک‘ میں بحثیت طالب علم کے شرکت کرنے سے کیا۔ بعد میں اس تحریک میں شرکت کے پاداش میں انہیں سکول سے بھی نکال دیا گیا۔ تاہم انہوں نے عملی سیاست کا آغاز خدائی خدمت گار تحریک کے پلیٹ فارم سے جنگ آزادی اور صوبہ سرحد میں انگریزوں کو نکالنے کی تحریک سے کیا۔

وہ پہلی بار 1972 میں اس وقت کے قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ 1970 کے ابتدائی سالوں میں جب حکومت کی طرف سے نیپ کے سرکردہ رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو اجمل خٹک نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے افغانستان چلے گئے اور وہاں سولہ سال تک جلاوطن رہے۔ افغانستان میں انہیں ریاست کے مہمان کی حیثت حاصل تھی۔

1989 میں انہوں نے جلاوطنی ختم کی اور واپس پاکستان آگئے اور 1990 میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ٹکٹ پر ضلع نوشہرہ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن بھی رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں تاہم ان کے صاحبزادے ایمل خان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کبھی سرحد اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ اجمل خٹک نے ملک میں جمہوریت کے لیے لڑی جانے والی تمام تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا۔ ان کا شمار خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبد الغفار خان عرف باچا خان اور ان کے بیٹے اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر خان عبدالولی خان کے قریب ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ وہ دو بار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر رہے۔

وہ ایک ترقی پسند سیاست دان تھے۔ اجمل خٹک کا سیاسی فلسفہ مارکسسٹ نظریے کے گرد گھومتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’عظیم پشتو شاعر خوشحال خان خٹک میرے خون میں ہے، مارکسسززم میرے دماغ میں ہے جبکہ قرآن میرے دل میں ہے۔‘

سن دو ہزار میں اجمل خٹک کو اس وقت عوامی نیشنل پارٹی سے اچانک نکالا گیا جب انہوں نے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف سے علحیدگی میں ملاقات کی۔ ان دنوں اجمل خٹک نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’شاید مجھے اس لیے پارٹی سے نکالا گیا کیونکہ میرا تعلق ایک خان یا جاگیردار طبقے سے نہیں بلکہ ایک متوسط گھرانے سے ہے۔‘

اے این پی سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ لیکن اس پارٹی کو خاص پزیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

تاہم کچھ عرصہ تک پارٹی سے علیحدہ رہنے کے بعد انہیں پارٹی رہنماؤں نے منایا اور وہ دوبارہ اے این پی میں شامل ہوئے۔

اجمل خٹک کی زندگی کے کئی پہلو ہیں۔ وہ پشتو زبان کے ایک نامور انقلابی شاعر اور ادیب تھے۔ انہوں نے تیرہ کتابیں لکھی ہیں جن میں اردو کی کتابیں بھی شامل ہیں۔ ان کا پہلہ شاعری مجموعہ ’دی غیرت چغہ‘ (غیرت کی چیخ) کتاب کی شکل میں 1958 میں شائع ہوئی بعد میں اس کتاب پر پاکستان اور افغانستان پر پابندی بھی لگائی گئی تھی۔

اجمل خٹک نے صحافت کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ وہ پشتو اور اردو زبانوں کے کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہے جن میں انجام، شہباز، عدل، رہبر اور بگرام قابل ذکر ہیں۔