بحالی کی توثیق ابھی باقی ہے:گیلانی

فائل فوٹو،
Image caption وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئین میں ججوں کی تعیناتی کا اختیار صدر کو حاصل ہے

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت جو جج ان کے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بحال ہوئے ہیں اس کی پارلیمان سے توثیق کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام جج ان کے حکم پر بحال ہوئے اور فیصلہ رات کو بارہ بجے ہوچکا تھا، لیکن انہوں نے اعلان صبح چھ بجے اس لیے کیا کہ وہ مشاورت کر رہے تھے کہ کہیں اس میں کوئی سقم باقی نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے جج بحال نہیں ہوئے اگر حکومت انہیں بحال نہ کرتی تو ان کی حکومت چلی جاتی لیکن پھر بھی جج بحال نہیں ہوتے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئین میں ججوں کی تعیناتی کا اختیار صدر کو حاصل ہے اگر پارلیمان یہ اختیار چیف جسٹس کو دینا چاہتی ہے تو وہ ترمیم کرلے حکومت عمل کرے گی۔

پیر کو پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں حزب مخالف نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے چیف جسٹس کی سفارشات کے برعکس ججوں کی تعیناتی کے فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا اور وا ک آوٹ بھی کیا۔

پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں حزب مخالف کے رہنما وسیم سجاد نے چیف جسٹس کی سفارشات کے برعکس صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ججوں کی تعیناتی کے حکم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت اور عدلیہ میں محاذ آرائی بڑھے گی۔

جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ عدلیہ سے محاذ آرائی سے باز رہے ورنہ اس کے غلط نتائج نکلیں گے۔

اس پر سینیٹ میں قائد ایوان سید نیئر بخاری نے کہا کہ صدر کے حکم کو سپریم کورٹ نے معطل کردیا ہے اور معاملہ عدالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا سب کو انتظار کرنا چاہیے اور کسی کو بھی اُسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

بلوچستان کے پشتون قوم پرست سنیٹر عبدالرحیم مندوخیل اور بلوچ سنیٹر عبدالمالک نے بھی حکومتی موقف کی تائید کی اور کہا کہ ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر حمہوری حکومت یا فرد واحد کو ہٹانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

ادھر قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چودھری نثار علی خان نے جب ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر بات کرنا چاہی تو سپیکر فہمیدہ مرزا نے انہیں یاد دلایا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ جس پر اپوزیشن لیڈر نے سپیکر پر اپنی جماعت کو بچانے کی کوشش کا الزام لگایا۔ تاہم بعد میں انہوں نے دیگر حکومتی پالیسیوں پر حسب روایت بھرپور تنقید کی اور دو طنزیہ لطیفے بھی سنائے۔

وزیراعظم نے چودھری نثار علی کی تنقید کا بھرپور جواب دیا اور کہا کہ صدر آصف علی زرداری منتخب اسمبلیوں کے ووٹ سے صدر بنے ہیں ان کا موازنہ ریفرینڈم والے صدر پرویز مشرف سے نہ کیا جائے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان پر این آر او سے فائدہ اٹھانے کاالزام لگاتے ہیں لیکن کیا کمپرومائیز آپ لوگوں نے نہیں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے ان کے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کی پارلیمان سے توثیق ابھی ہونی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ججوں کی بھرتی کا اختیار آئین کے مطابق صدر کے پاس ہے اور اگر پارلیمان اس میں ترمیم کرکے یہ اختیار چیف جسٹس کو دے دے تو حکومت عمل کرنے کو تیار ہے۔ وزیراعظم نے پہلی بار کھل کر جہاں وضاحتیں پیش کیں وہاں مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کا نام لیے بنا مشرف سے معاہدہ کرکے جیل سے جدہ جانے والا معاہدہ بھی یاد دلایا۔

مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم کی تقریر کے بعد واک آوٹ کیا اور شاہراہ دستور پر جلوس بھی نکالا۔ اجلاس کی کارروائی منگل تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں