ملا برادر، ایک اہم جنگجو کمانڈر

Image caption ’پاکستان طالبان کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہے‘

کراچی سے گرفتار ہونے والے افغان طالبان کے اہم عسکری کمانڈر ملا عبدالغنی برادر آخوند کا شمار طالبان تحریک کے سرکردہ رہنماؤں اور طالبان سربراہ ملا محمد عمر کے انتہائی اہم اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

پچاس سالہ ملا برادر آجکل طالبان شوری کے اہم رکن اور ملا محمد عمر کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے۔

ان کا تعلق بنیادی طورپر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے لیکن وہ گزشتہ کئی سالوں سے طالبان کے مرکز کے طورپر مشہور افغان صوبہ قندھار میں مقیم تھے۔

افغانستان پر کام کرنے والے اکثر صحافیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا اغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ تاہم جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے پاس کوئی خاص عہدہ نہیں تھا۔ بعد میں انھیں ہرات کا گورنر بنا دیا گیا۔

ملا برادر طالبان تحریک میں اہم فوجی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ طالبان کے آرمی چیف بھی رہ چکے ہیں۔ طالبان نے سنہ 1998 میں جب افغان صوبے بامیان پر قبضہ کیا تو اس حملے کے وقت ملا برادر طالبان کے کمانڈر تھے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے طالبان کمانڈروں کےلیے ایک کتابچے کی صورت میں ضابطۂ اخلاق بھی تحریر کیا تھا جس میں جنگی گرُ ، قیدیوں اور غیر ملکیوں سے سلوک اور دیگر طریقے بتائے گئے ہیں۔

ملا برادر کا تعلق افغانستان کے پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ افغانستان میں انتہائی بااثر سمجھا جاتا ہے اور افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے افراد سرحد کے دونوں جانب یعنی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پشاور میں بھی آباد ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے جو راہ ہموار کی جا رہی تھی ان میں ملا برادر اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ بعض افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انہوں نے بعض اہم سعودی حکام سے ممکنہ مذاکرات پر بات چیت بھی کی تھی۔

پشاور میں بی بی سی کے سینئر نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 1995 میں ملا محمد عمر سے ملاقات کے دوران ملا برادر آخوند سے ملے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملا برادر ملا عمر کے دو نائبین میں سے ایک تھے جبکہ دوسرے نائب ملا عبید اللہ آخوند تھے۔ رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق پہلے ملا عبید اللہ آخوند کے حوالے سے بھی خبر آئی تھی کہ انھیں گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن بعد میں پاکستانی حکام نے اسکی تردید کی تھی۔

اسی بارے میں