بلوچستان کی ’آزادی کی جدو جہد‘ پر اتفاق

Image caption ’خطے کے زمینی حالات اور بلوچوں میں قیادت اور صلاحیت کے فقدان کے پیش نظر انہیں اپنی چادر کے حساب سے پاؤں پھیلانے چاہییں‘

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر بلوچستان کے بارے میں اعلامیے میں باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے بلوچستان کی ’آزادی‘ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

بدھ کو جاری کردہ بائیس نکاتی اعلامیہ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بلوچوں کے خلاف ’تشدد، جبری گمشدگیوں اور غیر جانبدارانہ انصاف کی فراہمی‘ کے نظام کو یقینی بنانے کا نوٹس لے اور پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ ’قومی اور علاقائی تکمیل کے نام پر بلوچوں کے خلاف مظالم بند کرے۔

اعلامیہ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑنے والوں کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ بلوچوں کے حقوق کے لیے جانیں قربان کرنے والے بلوچ باغیوں کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے دنیا کی پانچویں بڑی فوج کے ساتھ بڑی جرآت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ بلوچستان کا جبری الحاق منتخب اسمبلی کے فیصلے کی خلاف ورزی اور تاریخی نا انصافی ہے‘۔ اعلامیہ میں اس بارے میں عالمی اداروں سے رجوع کرنے اور بلوچ عوام کے حقوق کے حصول تک اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں بلوچوں کے خلاف ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ پر حکومت اور سیکورٹی فورسز پر تنقید کی گئی ہے اور مختلف جیلوں میں قید بلوچوں کو جنگی قیدی قرار دینے اور ان کے ساتھ اقوام متحدہ کے کنوینشنز کے تحت سلوک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کےحوالے سے پاکستان کی عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں ’اس نظام سے امید کی توقع نہیں‘ ہے۔

بلوچ دانشوروں پر مشتمل ایک تجزیاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیہ میں بلوچ وائس فاؤنڈینش کے زیرِ اہتمام ہر سال کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بائیس سے چوبیس فروری تک بینکاک میں منعقد اس کانفرنس کا اہتمام پیرس میں قائم کردہ بلوچ وائس فاؤنڈیشن نے بظاہر بھارت کے ایک ادارے ’انسٹیٹیوٹ آف ڈفینس سٹڈیز اینڈ اینالائسز‘ کے تعاون سے کیا گیا۔

کانفرنس میں ناروے، سوئیڈن، روس، لندن اور پاکستان سے بلوچ مندوب شریک ہوئے۔ پاکستان سے بارہ کے قریب مندوبین جس میں تین خواتین بھی شامل تھیں، آخری روز شریک ہوئے۔ جس کی وجہ ان کو ویزے کے اجراء میں تاخیر بتائی گئی۔ فاؤنڈیشن کے رہنما منیر مینگل نے الزام لگایا کہ پاکستانی حکام کی مداخلت کی وجہ سے ان کے مندوبین کو ویزے دیر سے جاری کیے گئے۔

آخری روز کے سیش کی صدارت ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے سینئر تحقیق کار بصیر نوید نے کی اور انہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام ہوگئی ہے اور گمشدہ افراد کے معاملے میں خانہ پری کر رہی ہے۔

قبل ازیں دنیا کی غیر نمائندہ اقوام اور لوگوں کی تنظیم ( یو این پی او) کے سیکریٹری مرینو بزداچین اور بھارتی صحافی اور بھارت کے ’انسٹیٹیوٹ آف ڈفینس سٹڈیز اینڈ اینالائسز‘ کے کنسلٹنٹ سشانت سیرین نے بلوچوں پر زور دیا کہ وہ آزادی کا مطالبہ کرنے کے بجائے وسیع تر حقوق کی بات کریں۔مرینو بزداچین نے کہا کہ بلوچ جب پاکستان سے علیحدگی یا آزادی کی بات کریں گے تو عالمی فورمز پر انہیں وہ حمایت نہیں مل پائے گی جوکہ انہیں وسیع تر حقوق کی خاطر مل سکے گی۔

سشانت سیرین نے کہا کہ خطے کے زمینی حالات اور بلوچوں میں قیادت اور صلاحیت کے فقدان کے پیش نظر انہیں اپنی چادر کے حساب سے پاؤں پھیلانے چاہییں۔