کیا عافیہ فٹبال ہے!

سن دو ہزار نو میں کراچی کے تھانہ گلشنِ اقبال میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی شکائیت پر ایس ایچ او رستم نواز کی موجودگی میں ایف آئی آر نمبر سات سو تہتر زیرو نائن کاٹی گئی۔

اس کے مطابق ڈاکٹر فوزیہ کی بڑی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی تیس مارچ دو ہزار تین کو اپنے تین بچوں سمیت اسلام آباد جانے کے لیے گھر سے ایک ٹیکسی میں جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ روانہ ہوئیں لیکن انہیں راستے سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

اس ایف آئی آر میں نامعلوم اغوا کنندگان کے خلاف فوجداری قانون کی دفعہ تین سو پینسٹھ چونتیس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور ایس ایس پی نیاز کھوسو کی سربراہی میں ایک پولیس ٹیم نے تفتیش شروع کر دی۔

جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی اغوا ہوئیں اس وقت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف تھے۔ (جنہوں نے بعد میں اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے سینکڑوں ملزم پیسوں کے عوض یا رضاکارانہ طور پر امریکہ کے حوالے کیے)۔

اس دن پاکستان میں مسلم لیگ ق کے وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کی حکومت تھی اور وزیرِ داخلہ فیصل صالح حیات تھے۔ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ جو بھی وزیرِ داخلہ ہو اس کے علم میں یہ بات یقیناً ہوگی کہ کسی پاکستانی شہری کو کب، کیوں اور کس قانون کے تحت اغوا کیا گیا یا کسی غیر ملک کے حوالے کیا گیا۔

اس دن لیفٹننٹ جنرل احسان الحق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے۔ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی کو معلوم ہو کہ آیا کسی پاکستانی شہری کو کوئی ملکی یا غیرملکی ایجنسی یا فرد ٹھوس قانونی جواز کے بغیر اغوا کر کے تو نہیں لے جا رہا۔

جب عافیہ صدیقی غائب ہوئیں تو سید محب اسد ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تھے۔ امیگریشن اور پاسپورٹ کنٹرول کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے لہذا یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ایف آئی اے کے علم میں ہو کہ کوئی پاکستانی باشندہ جبراً یا جعلی دستاویزات پر غیر قانونی یا خفیہ کوشش کے تحت ملک کی فضائی، زمینی یا بحری حدود سے باہر تو نہیں لے جایا جا رہا۔

اس وقت صوبہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیرِ اعلٰی علی محمد مہرجب کہ انسپکٹر جنرل پولیس سید کمال شاہ تھے۔ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے محکمہ داخلہ کے توسط سے اس وقت کے آئی جی کو یاددہانی کروائے کہ جو بھی شہری اغوا ہو اس کی ایف آئی آر فوراً کاٹی جائے اور یہ بھی متعلقہ صوبے کے اعلی پولیس افسر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ کسی شہری کے اغوا میں اس کے کسی ماتحت کی معاونت تو شامل نہیں ہے لیکن عافیہ صدیقی کے اغوا کی ایف آئی آر کو پولیس ریکارڈ میں جگہ بنانے کے لیے چھ برس سے زائد عرصہ لگا۔ کیوں؟

عافیہ صدیقی کے غائب ہونے کے لگ بھگ تین ماہ کے بعد امریکی جریدے نیوزویک کے تئیس جون کے شمارے میں کہا گیا کہ امریکی ایف بی آئی عافیہ صدیقی سے یہ پوچھ گچھ کرنا چاہتی تھی کہ ان کا القاعدہ کے ایک مشتبہ ماجد خان سے کیا تعلق ہے۔ جن کا پوسٹ بکس عافیہ استعمال کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ ان کے شوہر ڈاکٹر امجد علی پر بھی القاعدہ سے تعلق کا شبہہ تھا جنہیں عافیہ نے اغوا سے تین ماہ قبل طلاق دی تھی۔ فرض کریں کہ عافیہ کو ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے اغوا کیا تو پاکستان میں ایف بی آئی کی معاونت کس کس ادارے یا فرد نے کی؟

امریکہ نے سن دو ہزار آٹھ میں باقاعدہ طور پر عافیہ کی اپنے پاس موجودگی کا اعتراف برطانوی صحافی یون رڈلے کی اس پریس کانفرنس کے دو ہفتے بعد کیا جس میں رڈلے نے انسانی حقوق کے ایک کارکن ایلین وائٹ فیلڈ شارپ کی یہ اطلاع افشا کی کہ بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر موجود قیدی نمبر چھ سو پچاس اصل میں عافیہ صدیقی ہیں۔امریکیوں کے بقول عافیہ کو ان کے بیٹے محمد کے ساتھ عزنی میں گرفتار کیا گیا اور پوچھ گچھ کے دوران عافیہ نے ایک امریکی سارجنٹ کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔اس کے بعد عافیہ کا مقدمہ نیویارک کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں شروع ہوگیا اور ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی۔

عافیہ صدیقی کے اغوا ہونے کے واقعہ سے امریکیوں کے اعتراف کے درمیان پانچ برس کی مدت حائل ہے۔ ان پانچ برسوں میں عافیہ کہاں اور کس کس ادارے کی تحویل میں رہیں۔ آج جو جماعتیں اور تنظیمیں عافیہ کی رہائی کی سرگرم مہم چلا رہی ہیں انہیں ان پانچ برسوں میں عافیہ صدیقی کیوں یاد نہیں آئی۔اگر یون رڈلے انکشاف نہ کرتیں تو پھر یہ جماعتیں اور تنظیمیں کیا کرتیں۔ عافیہ کی رہائی کی مہم میں پیش پیش لوگوں نے اس بات کی کتنی کوشش کی کہ چندہ جمع کر کے امریکہ میں ایک اچھا سا وکیل کرنے کی مہم بھی چلاتیں تاکہ عافیہ کو اس کھیل میں مشکوک حکومتِ پاکستان کا احسان مند نہ ہونا پڑتا۔ مسلم لیگ ق کے رہنما بھی آج عافیہ رہائی مہم میں پیش پیش ہیں۔اگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ عافیہ کے اغوا میں کس کس پاکستانی ادارے یا فرد نے کیا کردار ادا کیا تو ان کے پاس عافیہ کی رہائی کا نعرہ بلند کرنے کا اخلاقی جواز کیا ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ اس ساری مہم کا رخ امریکہ کی طرف ہے۔ بینرز یا احتجاجی ریلیوں میں ان لوگوں میں سے کسی کا نام جذباتی مقررین کی زبان پر کیوں نہیں آتا جن کی مرضی یا اجازت کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا۔ کیا کسی فرد یا تنظیم نے کسی مقامی عدالت میں ایسی پٹیشن داخل کی جس میں ان اداروں اور افراد کے نام ہوں جن پر اس پورے ڈرامے میں اہم کردار ادا کرنے کا شبہہ ہے۔ جذباتی گفتگو سے لوگ تو مشتعل کیے جا سکتے ہیں۔ اپنے گناہوں پر پردہ تو ڈالا جاسکتا ہے۔ اپنی سیاسی دکان تو با رونق رکھی جا سکتی ہے لیکن اس کرتب بازی سے عافیہ صدیقی کیس میں کیا مدد مل سکتی ہے؟ کیا عافیہ کسی فٹ بال کا نام ہے ؟ کوئی تو بتائے ؟؟

اسی بارے میں