بلوچستان: صوبائی خودمختاری پر ہنگامہ

انیس سو چالیس کی قرارداد پاکستان کے مطابق صوبائی خود مختاری کے معاملے پر بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شدید اختلافات کے باعث قرارداد پیش نہ کی جاسکی۔ محرکین نے الزام الگایا کہ قرارداد ایجنڈے شامل تھی لیکن ایجنڈا تبدیل کر دیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی
Image caption بلوچستان اسمبلی صوبائی خود مختاری کے معاملے پر اس سے پہلے بھی قراردادیں منظور کرتی رہی ہے۔

قرارداد کے محرکین سینئر صوبائی وزیرمولانا عبدالواسع، سردار اسلم بزنجواور کئی دوسرے وزرا اور ارکان قرارداد پیر کو ہی اجلاس میں پیش کرنا چاہتے تھے لیکن سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ قرارداد ایجنڈے میں شامل نہیں ہے اس لیے پیش نہیں کی جا سکتی اور اس کے بعد انہوں نے اجلاس اٹھارہ مارچ تک ملتوی کیا اور ایوان سے چلے گئے۔

سپیکر کے جانے کے بعد جے یو آئی کے مولانا عبدالباری نے سپیکر کی کرسی سنبھال لی اور مولانا عبدالواسع نے قرارداد پیش کی جسے جے یو آئی، بی این پی عوامی اور آزاد ارکان نے منظور کیا۔

اس سے پہلے مذکورہ قرار داد پر اختلاف کی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہواـ

وقفہ سوالات کے بعد سپیکر نے صوبائی وزیر کھیل شاہنواز مری کو صوبے میں جاری لوڈ شیڈنگ سے متعلق قرارداد پیش کرنے کی ہدایت کی تاہم سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے پوائنٹ آف آرڈر پر بتایا کہ آج کے ایجنڈے میں صوبائی خود مختاری سے متعلق قرارداد شامل تھی ایجنڈے کو راتوں رات تبدیل کیا گیا ہے اور ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو جو ایجنڈا ارکان کو بجھوایا گیاتھا اس میں صوبائی خود مختاری کی قرارداد شامل تھی لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ایجنڈہ تبدیل ہو چکا ہے اس لیے انہیں قرداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے تاہم سپیکر کا اصرار تھا کہ قرارداد چونکہ ایجنڈے میں شامل نہیں اس لیے پیش نہیں کی جا سکتی۔ جس پر جے یو آئی، بی این پی عوامی اور آزاد ارکان نے کھڑے ہوکر شدید احتجاج کیا اور شاہنواز مری کو ان کی قرارداد پیش نہیں کرنے دی۔

مذکورہ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ آئینی پیکج میں کسی دباؤ یا مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وفاق کی چاروں اکائیوں کو متحد رکھنے اور وفاق کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی، سیاسی، جمہوری اور وفاقی اصولوں کے تحت چاروں اکائیوں کو انیس سو چالیس کی قرارداد مطابق صوبائی خود مختاری دینے کی ترمیم شامل کی جائے اور کرنسی، دفاع، خارجہ اور مواصلات اور براہ راست دفاعی امور سے متعلق شعبوں کے علاوہ تمام امور وفاق کی اکائیوں کو دیے جائیں۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینئرصوبائی وزیر مولانا عبدالواسع، اپوزیشن رکن پیر عبدالقادر گیلانی اور آزاد ارکان گروپ کے پارلیمانی لیڈر سردار اسلم بزنجو نے الزام عائد کیا کہ سپیکر نے کوئی وجہ بتائے قرارداد کو ایجنڈے سے نکال کر غیر قانونی اقدام کیا ہے اور سپیکر کے جانے کے بعد قرارداد منظور کرنے کا اقدام قانون کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ساتھیوں کے صلاح مشورہ کے بعد ہی پیش کی جائے گی۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی کا کہنا ہے کہ قرارداد میں کچھ مسائل تھے جس کی وجہ سے اسے اجلاس میں پیش نہیں کیا جاسکا، قرارداد پیش کرنے کے لیے اپنے قوائد و ضوابط ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سپیکر کوئی اجلاس برخاست کر دیتا ہے تو بعد میں کوئی رکن اجلاس کو جاری نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت ہوتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی، مسلم لیگ ق ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر میرعاصم کرد گیلو، عوامی نیشنل پارٹی کے زمرک خان اچکزئی اورمسلم لیگ ن کے کیپٹن عبدالخالق نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر صوبائی خود مختاری سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی اور اس پر حکومت میں کوئی اختلافات نہیں۔

اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ چیمبر میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت میں شامل پارلیمانی جماعتوں کی روایت رہی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر مسائل حل کرتے ہیں اور ہر پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کثرتِ رائے سے فیصلے کیے جاتے ہیں، فرد واحد کے نظریات ٹھونسے نہیں جاتے۔

اسی بارے میں