گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط

پاکستان اور ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے کے حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور اس پائپ لائن پر سنہ دو ہزار چودہ تک کام مکمل کر لیا جائے گا۔

پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے وفاقی سیکریٹری کامران لاشاری اور ایران کی وزارت پیٹرولیم کے مشیر کاسی زادہ نے ترکی کے شہر استمبول میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس منصوبے پر ساڑھے سات ارب امریکی ڈالر خرچ کیے جائیں گے اور یہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔

اس منصوبے پر سنہ دو ہزار گیارہ سے کام شروع ہو جائے گا جو دو ہزار چودہ میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے ساؤتھ فارس گیس فیلڈ سے یومیہ پچھہتر کروڑ کیوبک فٹ گیس صوبہ بلوچستان اور سندھ کوفراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل نوید قمر نے اس معاہدے کو توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی بہت ضرورت ہے اور اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد اس مسئلے کے حل میں کافی مدد ملے گی۔

وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی وسائل کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کو دو ہزار پندرہ کے وسط تک گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔

بیان کے مطابق اگر بھارت نے منصوبے میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی تو اس منصوبے سے اسے بھی گیس کی فراہمی کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو گیس کی فراہمی کےلیے اس کی ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کا تعین پاکستان خود کرے گا۔

اسی بارے میں