مصنوعی جھیل کا بند ٹوٹنے کا خطرہ نہیں

ہنزہ کی مصنوئی جھیل
Image caption دریا کے بہاؤ کے رخ پر کھدائی کی جاری ہے تاکہ اپنی اپنے روایتی راستے پر دوبارہ بہنے لگے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے وادی ہنزہ میں مٹی کے تودے گرنے سے دریائے ہنزہ کے قدرتی بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

حکام کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں جو مصنوعی جھیل بن گئی ہے اسکے بند ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک اعلامیے میں بتایا ہے کہ فوج کے ماہرین نے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد یہ تجویز دی تھی کہ جس جگہ تودے گرنے سے دریا کے بہاؤ میں بند بندھ گیا ہے اسی جگہ دریا کے بہاؤ کے رخ پر ہی کھدائی کی جائے تاکہ پانی اپنے روایتی راستے سے دوبارہ بہنا شروع ہو۔

اعلامیے کے مطابق فوجی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے عملے نے بیس جنوری سے کھدائی شروع کی تھی اور وہاں 350 میٹر کے علاقے میں کھدائی کر کے راستہ بنادیا ہے جو ساٹھ میٹر چوڑا اور بیس میٹر گہرا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے عملے نے اب بھی کھدائی کا کام جاری رکھا ہوا ہے تاکہ پانی کے لیے بنائی جا رہی اس گزرگاہ کو جتنا ہوسکے گہرا بنایا جا سکے۔

اعلامئے کے مطابق سول انجینئرنگ سے متعلق سرکاری ادارے نیسپاک کے ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ جب اس مصنوعی راستے سے دریا بہنا شروع ہوگا تو اسکے نتیجے میں نشیبی علاقوں پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ نیسپاک اپنی یہ رپورٹ جلد ہی مرتب کرلے گا جس کے بعد اسے ذرائع ابلاغ کو جاری کردیا جائے گا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ فرنٹتئر ورکس آرگنائزیشن کے اہلکار اس قدرتی آفت کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے کناروں پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی جگہ سے بند ٹوٹنے کی صورت میں فوری حفاظتی انتظامات کیے جاسکیں۔

جبکہ پاکستانی فوج مقامی آبادی کو دوسری خدمات کے ساتھ ساتھ کشتی کے ذریعے آمدورفت کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے۔

اسی بارے میں