شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے، سات ہلاک

منگل کو بھی دتہ خیل کے علاقے میں ڈرون حملے ہوئے تھے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ڈرون طیاروں کے دو حملوں میں کم از کم سات شدت پسند ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق پہلا حملہ بدھ کی صبح صدر مقام میران شاہ سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور دتہ خیل تحصیل کے گاؤں مائیز مداخیل میں پیش آیا۔

اہلکار کے مطابق ایک مبینہ امریکی جاسوس طیارے نے شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر دو میزائل داغے جس سے وہاں موجود چار شدت پسند ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ مقامی افراد کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان سے بتایا جاتا ہے۔

دوسرا حملہ میران شاہ کے ہی ایک علاقے ٹوچی میں کیا گیا جس میں کم از کم تین شدت پسند ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ایک گاڑی پر کیا گیا جس میں شدت پسند سوار تھے۔

یاد رہے کہ منگل کو بھی دتہ خیل تحصیل میں ایک پہاڑی علاقے زواہ پر حملے کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں پچھلے چند ماہ سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں زیادہ تر افغان اور حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں متعدد اہم جنگجو کمانڈر بھی مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں