درہ آدم خیل: فورسنر کی فائرنگ سے دو ہلاک

فائل فوٹو
Image caption درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے اہم علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کسی بھی سکیورٹی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کی طرف سے یہ بڑا حملہ تھا

پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کی جس سے ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں ایک شدت پسند ہلاک جبکہ تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

درہ آدم خیل کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح درہ آدم خیل بازار کے قریب ایک گاؤں میں پیش آیا۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور سے کوہاٹ جانے والی دو مسافرگاڑیوں نے کرفیو کے باوجود درہ آدم خیل میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق ’سکیورٹی فورسز نے مسافر گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہیں رکے‘۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق پارہ چنار اور پشاور سے بتایا جاتا ہے۔

قبل ازیں درہ آدم خیل میں مسلح عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں ایک شدت پسند ہلاک جبکہ تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق تقریباً پچاس کے قریب مسلح شدت پسندوں نے رات کی تاریکی میں سپینہ تھانہ سکیورٹی چیک پوسٹ پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔

انہوں نے کہا ’سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور ساری رات جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔‘

یاد رہے کہ سپینہ تھانہ سکیورٹی چیک پوسٹ فوج، فرنٹیر کور اور فرنٹیر کانسٹیبلری کی ایک اہم اور مشترکہ چیک پوسٹ ہے جو ضلع پشاور اور درہ آدم خیل کی سرحد پر واقع ہے۔ درہ آدم خیل میں داخل ہونے کےلیے یہ پہلی سکیورٹی چیک پوسٹ ہے جہاں گاڑیوں کی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔اس چیک پوسٹ کو پہلے بھی متعدد بار خودکش اور راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے اہم علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کسی بھی سکیورٹی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کی طرف سے یہ بڑا حملہ تھا۔

اسی بارے میں