’لاپتہ بلوچوں کے مقدمات درج کیے جائیں‘

سپریم کورٹ نے بلوچستان پولیس کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ لاپتہ ہونے والے بلوچ افراد کےگمشدہ ہونے سے متعلق مقدمات درج کریں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُن کے خلاف کارروائی ہوگی۔

جمعرات کو جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے مذکورہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

جسٹس جاوید اقبال نے یہ رپورٹ دیکھ کر اٹارنی جنرل سے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے اقدامات میں حکومتی اداروں کی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی فہرست میں کمی ہونے کی بجائے اس میں اضافہ ہو رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔

آئی جی بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ صوبے سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں پولیس اور متعلقہ ادارے کوششیں کر رہے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ بہت جلد لاپتہ ہونے والے بلوچی اپنے گھروں کو آجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو غیر قانونی طور پر اُٹھا کر دہشت گردی سے متعلق پوچھ گچھ کرنا مناسب نہیں ہے۔ جسٹس جاوید کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے قوانین کمزور ہیں تو پارلیمنٹ اس حوالے سے دوبارہ قانون سازی کرسکتی ہے تاہم آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے ایک اور ہائیکورٹ کے دو ریٹائرڈ جج شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن مکمل طور پر با اختیار ہوگا اور کسی بھی متعلقہ وزیر، سیکرٹری یا خفیہ اداروں میں تعینات کرنل رینک کے افسر کو طلب کر کے لاپتہ افراد سے متعلق پوچھ گچھ کر سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ عدالت خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کرے تاکہ اُنہیں بھی اس بات کا احساس ہو کہ وہ ماورائے آئین نہیں ہیں۔جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ عدالت کا کام ماورائے آئین ہونے والے اقدامات کو روکنا ہے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔

راولپنڈی سے لاپتہ ہونے والے مسعود جنجوعہ کی گمشدگی سے متلعق کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل شفقات احمد کی طرف سے ایک تحریری بیان بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مسعود جنوعہ کے سُسر کی طرف سے دی جانے والی درخواست پر انہوں نے تمام خفیہ اداروں سے تحقیقات کروائی تھیں لیکن وہ اُن کی تحویل میں نہیں تھے۔ یاد رہے کہ مذکورہ کورکمانڈر سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔

سماعت کے دوران ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ اُن کے رشتہ دار بھی لال مسجد آپریشن کے دوران لاپتہ ہوئے اور اُن کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے لال مسجد آپریشن کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست بھی طلب کرلی ہے۔’

عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت پانچ اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں