امریکہ سے مذاکرات: پاکستان کی نئی وِش لسٹ

’پاکستان سیٹو اور سینٹو کے وقتوں سے امریکی کیمپ کا حصہ بنا ہے اور اب بھی عوامی جذبات سے قطعِ نظر اس کی خواہش یہی ہے کہ وہ اسی سے چپکا رہے‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر آصف علی زرداری سے کل ایوان صدر میں مشترکہ ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ اور عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات کو چوبیس مارچ سے واشنگٹن میں امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والے سٹریٹجک مذاکرات سے قبل بظاہر پاکستان کے اہم ریاستی اداروں نے ایک متفقہ آواز اور موقف کے ساتھ جانے کے لیے تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ملک کی سیاسی و فوجی قیادت نےحالیہ ماضی میں کیری لوگر بِل جیسے اختلافات سے بظاہر بچنے کی خاطر اس مرتبہ مذاکرات میں جانے سے قبل آپس میں صلاح مشورے کیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایوان صدر میں کل کی ملاقات اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ملاقات سے قبل وزیر خارجہ کا میڈیا بریفنگ میں یہ کہنا کہ اب امریکہ کی باری ہے کہ وہ پاکستانی امداد کے وعدے پورے کرے، مذاکرات سے قبل امریکی انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جمعرات کی صبح وزارت خارجہ میں شاہ محمود قریشی نے ایک بریفنگ میں بات چیت کے لیے شرائط سامنے رکھیں، اس کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں سٹریٹجک ڈائیلاگ کے بارے میں جامع اور مربوط اپروچ وضع کرنے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا اور دن کا اختتام ایوان صدر میں سیاسی و فوجی قیادت کے مل بیٹھنے پر ہوا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک اجلاس میں واضح کیا کہ پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کو عوام کا اعتماد قائم کرنے کے لیے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ پہلو کیا ہیں؟ اس کی وضاحت اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا بریفنگ میں کر دی تھی۔ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششیں تو دونوں ممالک کی ضرورت ہیں۔ تاہم پاکستان میں ایک حلقے کا خیال ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ امریکہ کی ضرورت ہے لہٰذا اس پر واشنگٹن خود ہی چُستی دکھائے گا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے دونوں کے درمیان تعاون کا گرم سرد سلسلہ تو کئی برسوں سے جاری ہے اور پاکستان مزید امداد کی توقع کرتا رہے گا لیکن اس کی امیدیں اور توقعات یہاں تک کی نہیں ہیں۔

سرکاری اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ان مذاکرات میں اپنے بنیادی سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا جو حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ بھی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بناء پر معیشت کو ہونے والے پینتس ارب ڈالر سے زائد کا معاملہ اٹھائے گا اور اس بات پر زور دیا جائے گا کہ امریکہ پاکستان سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔

اس کے علاوہ سوات، ملاکنڈ اور جنوبی وزیرستان کی تعمیر نو و بحالی کے حوالے سے بھی امریکہ سے بات چیت کی جائے گی کہ وہ اس بارے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے معاشی ترقی کے زونز جلد قائم کرنے کے لیے زور ڈالا جائے گا۔

پاکستان سیٹو اور سینٹو کے وقتوں سے امریکی کیمپ کا حصہ بنا ہے اور اب بھی عوامی جذبات سے قطعِ نظر اس کی خواہش یہی ہے کہ وہ اسی سے چپکا رہے اور وہیں اس کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھے۔ اسی لیے پاکستان ان تازہ مذاکرات میں ایک نئی وش لسٹ لے کر جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے ذریعے دو طرفہ تعاون کے دس شعبوں کی نشاندہی کی ہے۔

امریکہ میں بھی ایک حد تک پاکستانی خواہشات کی آگاہی موجود ہے لیکن وہاں معاشی ابتری اور اندرونی سیاست شاید تمام دس نکات پر امداد کی یقین دہانی نہ کرا پائے۔ لیکن کسی سیانے نے خوب کہا ہے کہ ’کہنے میں کیا ہرج ہے‘۔

اسی بارے میں