پنجاب: اس کا اشتہار، اس کا مونوگرام

پاکستان پنجاب پولیس نے عوام کے نام اپنی ایک اپیل کے اخباری اشتہار میں بھارتی پنجاب پولیس کا تری مورتی والا مونوگرام شائع کردیا ہے۔

مونوگرام
Image caption اشتہار کا مونوگرام والا حصہ

انسپکٹر پنجاب پولیس طارق سلیم ڈوگر کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے یا کوئی نادانستہ غلطی ہے۔

لاہور سے شائع ہونے والے پاکستان کے بیشتر قومی اخبارات کے فرنٹ پیج پر شائع ہونے والے پنجاب پولیس کے اشتہار شدت پسندی سے نمٹنے کے اقدامات کا حصہ ہیں۔

اس اشتہار میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی روز مرہ زندگی میں محتاط رہیں مشتبہ افراد پر نظر رکھیں، دکان مکان کرایہ پر دیتے ہوئے اور گھریلوملازم رکھتے ہوئے قومی شناختی کارڈ کا خیال رکھیں۔

اردو زبان میں شائع ہونے والا اشتہار ’بسم اللہ‘ سے شروع ہوتا ہے اور اختتام پر مونو گرام کے ساتھ پنجاب پولیس لکھا ہے۔

بھارتی یعنی مشرقی پنجاب اور پاکستانی یعنی مغربی پنجاب کے محکمہ پولیس کے محکمانہ مونو گرام ملتے جلتے ہیں صرف بالائی حصہ کا فرق ہے مشرقی پنجاب پولیس پر تری مورتی ہے جبکہ مغربی پنجاب پولیس کے مونوگرام پر ستارہ ہوتا ہے۔

قواعد کے مطابق پاکستانی پنجاب کی پولیس کے اشتہار میں ستارے والا ہونا چاہیے تھا لیکن تری مورتی والا اشتہار شائع ہوگیا۔

پنجاب میں سرکاری اشتہارات محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے ذریعے جاری ہوتے ہیں اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اشتہار مختلف سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں سے ہوتا اور افسروں کی منظوری کے بعد اخبارات کے دفاتر میں اشاعت کے لیے گیا۔

جمعہ کی صبح اخبارات کے اشاعت کے بعدمیڈیا نے ہی اس غلطی کی نشاندہی کی جس پر چند مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل آیا ہے اور اسے پاکستان کی نظریاتی اساس پر ایک حملہ تک قرار دیا گیا۔

آئی جی پنجاب پولیس نے ایک نجی ٹی وی چینل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی اور مغربی پنجاب کی پولیس کے محکموں کے مونوگرام آپس میں بہت مماثلت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ محض پرنٹنگ کی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اصل بات یہ ہے کہ پنجاب پولیس کا پیغام عوام تک پہنچایا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

’اگر جان بوجھ کر ایسا کیا گیا تو زیادہ سخت سزا ہوگی اور اگر نادانستگی میں ایسا ہوا تو تب بھی یہ معاملہ قابل گرفت ہے‘۔

لاہور میں چند برس پہلے بھی بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بے انت سنگھ کی جانب سے ایک اشتہار پاکستانی اخبارات میں شائع ہوگیا تھا جس میں دونوں ملکوں کے پنجاب کے اتحاد کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔

اس اشتہار کو شائع کرنے والے اخباری کارکنوں کو بھی سرکاری سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں