وسطی کرم ایجنسی میں جھڑپیں، بائیس افراد ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ وسطی کرم میں قومی لشکر اور طالبان کے مابین جھڑپوں میں بیس جنگجوؤں سمیت بائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کرُم ایجنسی کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو کُرم ایجنسی کے سب ڈویژن وسطی کرم میں بیت اللہ محسود گروپ کے ایک کمانڈر طوفان اور قومی لشکر میں اس وقت شدید جھڑپیں شروع ہوئیں جب طوفان کے ساتھیوں نے عام شہریوں کے گھروں کو جلانا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں بیس شدت پسند ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔

کرم ایجنسی میں جھڑپیں: آڈیو رپورٹ

واضح رہے کہ وسطی کرُم میں طالبان کے کئی مراکز موجود ہیں اور اس علاقے میں پہلے بھی کئی بار سکیورٹی فورسز پر حملے بھی ہوچکے ہیں جس میں سکیورٹی فورسز کوجانی نقصان بھی پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ وسطی کرم ایجنسی کی سرحدیں اورکزئی ایجنسی سے متصل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بیشتر عسکریت پسندوں نے علاقہ چھوڑ کر سنٹرل کرم اور اورکزئی ایجنسی میں پناہ لے لی ہے۔

ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ حکام کے مطابق قومی لشکر میں قبیلہ موسزئی کے ذیلی شاخ المرزئی کے دو سو رضاکار شامل ہیں باقی تین قبیلے کے لوگ لشکر میں شامل نہیں ہیں۔ قومی لشکر اور شدت پسند گزشتہ تین دنوں سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے کررہے ہیں۔

وسطی کُرم کے علاقے بڑی زونہ سے لوگوں نے طالبان کے خوف سے پہلے ہی اس علاقے سے نقل مکانی کر لی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس علاقے میں طالبان کے خلاف آپریشن بھی شروع کیا تھا لیکن حکومت کے ناکامی کے بعد مقامی لوگوں طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق علاقے سے لوگوں کے چلے جانے کے بعد حکومت نے وہاں کوئی کنٹرول حاصل نہیں کیا بلکہ خالی مکانات پر شدت پسندوں نے قبضہ کرکے ان کو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی کئی مکانات کو طالبان نے بارودی مواد سے تباہ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں