چارسدہ:دھماکے سے سکول تباہ

پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں مسلح افراد نے لڑکوں کے ایک سرکاری ہائی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری طرف قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مسلح افراد نے بنیادی صحت کے ایک مرکز کو تباہ کر دیا ہے۔

چارسدہ پولیس کے ایک اہلکار صفت خان نے بی بی سی کو بتایا ’یہ واقعہ اتوار کو دن کے وقت شب قدر کے علاقے سبحان خوڑ میں پیش آیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے سبحان خوڑ ہائی سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے سکول کی چاردیواری تباہ ہوگئی جبکہ کمروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے سکول کے احاطے میں قائم لڑکوں کے ایک امتحانی مرکز کو بھی جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے جہاں میٹرک کے امتحانات جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کی چُھٹی کے باعث امتحانی مرکز میں طلباء موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی جانب سے اس سکول پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہونے والے واقعات میں اس سکول کو خودکش حملے اور بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سکول مہمند ایجنسی کے پچیس متنازع دیہات کا حصہ ہے جس پر ضلع چارسدہ اور مہمند ایجنسی کی انتظامیہ کے مابین کئی سالوں سے تنازعہ چلا آرہا ہے۔

تحصیل شب قدر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران پانچ سکولوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

اُدھر ضلع چارسدہ کے ساتھ واقع قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے بنیادی صحت کے ایک مرکز کو بم دھماکوں میں تباہ کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح شدت پسندوں نے تحصیل صافی کے علاقے جھنڈا محسود میں واقع بنیادی صحت کے ایک مرکز کو رات کے وقت دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جس سے عمارت تباہ ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ ضلع چارسدہ اور مہمند ایجنسی کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں اور اِن دونوں علاقوں میں سکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز پر حملوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

اس قسم کے واقعات میں اب تک میں چالیس کے قریب سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مہمند ایحنسی کے مقامی طالبان وقتاً فوقتاً ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں