مہمند اور باجوڑ میں سکولوں پر حملے

صوبہ سرحد کے وادی سوات میں تو فوج نے موثر آپریشن کرکے سکولوں پر حملے بند کرادیئے ہیں لیکن دوسری طرف قبائلی علاقوں درہ آدم خیل، مہمند، باجوڑ اور خیبر میں تعلیمی اداروں پر جاری حملوں کا جائزہ لیا جائے تو اب تک تقریباً دو سو سے زائد سرکاری سکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا جاچکا ہے لیکن تاحال حکومت کی جانب سے ان علاقوں میں حملے روکنے کےلیے کوئی اقدام نہیں لیا گیا ہے۔

Image caption سوات میں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال کردی گئی ہیں

لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’آخر یہ حملے بند کب ہونگے؟ کیا حکومت کو ان کے بچوں کو بندوق کے نوک پر پستی کی طرف دھکیلنے کا علم بھی ہے یا نہیں؟ کیا ان علاقوں میں بھی کبھی شدت پسندوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی ہوگی اور ان کی جان بھی کبھی دہشت گردوں سے آزاد ہوگی یا نہیں؟‘

سوات میں تقریباً دو سال قبل جب سرحد حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والا پہلا امن معاہدہ ختم ہوا تو سرکاری سکولوں پر حملوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ یہ حملے طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے لیکر صدر مقام مینگورہ تک کئے گئے۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ کرفیو کے دوران بھی سکول نشانہ بنے جس سے مقامی باشندوں میں کئی قسم کے شکوک و شبہات بھی پیدا ہوئے۔ تاہم اس دوران سوات کے عوام مسلسل ہر فورم پر اس کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔

سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے جب لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کا اعلان کیا تو تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فیصلہ عسکریت پسندوں کے زوال کا سبب بنا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ بھرپور ایکشن میں نظر آیا اور اس پابندی کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی میڈیا پر بھرپور کوریج اور واویلا کیا گیا اور بالآخر حکومت کو مجبوراً سوات میں فیصلہ کن کارروائی کرنا پڑی۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق وادی سوات میں دو سو تہتر سکولوں اور تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں معطل کی گئی تھیں جس سے لاکھوں طلبہ تعلیم کی حصول سے محروم ہوئے۔

سوات میں آپریشن کے بعد زیادہ تر علاقوں میں حکومتی رٹ کی بحالی کے بعد وہاں سکولوں پر حملے بند ہوگئے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں بھی دوبارہ بحال کردی گئی ہے۔ تاہم ودای سوات کے بعد یہ حملے سب سے پہلے درہ آدم خیل اور باجوڑ ایجنسی میں شروع ہوئے اور یہاں سے دہشت گردی کے یہ واقعات اب تیزی سے دیگر قبائلی ایجنیسوں کی طرف پھیل رہے ہیں۔

اس وقت مہمند، باجوڑ ، خیبر اور درہ آدم خیل ایسے علاقے ہیں جہاں سرکاری سکول، بنیادی صحت کے مراکز اور دیگر حکومتی تنصیات پچھلے چند ماہ سے شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ صرف باجوڑ ایجنسی میں اسی کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جاچکا ہے جبکہ خیبر، مہمند اور درہ آدم خیل میں بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو بیس سے زائد سرکاری سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ حملے ان ایجنسیوں میں ہورہے ہیں جہاں حکومت کے مطابق یا تو شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہے یا ان کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ لیکن لوگ سوال کرتے ہیں کہ جن علاقوں میں حکومت کی رٹ بحال کردی گئی ہے اور جہاں ہر اہم مقام پر سکیورٹی فورسز کی موجودگی ہے وہاں پر یہ حملے کیوں اور کیسے ہورہے ہیں۔ان میں خصوصی طورپر باجوڑ ایجنسی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جہاں چند ہفتے قبل حکومت نے طالبان کے زیرقبضہ اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس تازہ حملے سے قبل باجوڑ میں تقریباً اٹھارہ ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہے تھے۔ باجوڑ کے ایک باشندے کے بقول ’اب ہم کس کے پاس جائیں اور اپنا رونا روئیں، علاقہ بھی کلئیر ہوگیا، لوگوں نے جشن بھی منایا پھر بھی یہ حملے جاری ہیں، آخر ہمارے بچوں کے مستقبل کا کیا بنے گا؟‘

سوات میں جب ہر طرف تعلیمی اداروں پر حملے جاری تھے تو ان دنوں ایک تو اس کے خلاف سوات کے عوام مسلسل احتجاج کرتے رہے اور دوسری طرف صوبہ سرحد کی حکومت نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا اور وہ مسلسل وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز پر طالبان کے خاتمے کےلیے دباؤ ڈالتی رہی۔ لیکن اس سلسلے میں قبائلی علاقوں سے ابھی تک کوئی آواز سامنے نہیں آئی ہے۔

اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ ان متاثرہ قبائلی علاقوں سے بیشتر افراد نقل مکانی کرکے دیگر علاقوں میں پناہ لے لی ہے اور تعلیم کی کمی اور غربت کے باعث وہ اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جبکہ ان کے منتخب نمائندے حکومت کے حامی ہونے کی وجہ سے ان کےلیے موثر آواز نہیں اٹھا سکتے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق سوات میں جب سکولوں پر حملے ہورہے تھے تو اس وقت اکثریتی علاقوں پر طالبان کا بھر پور کنٹرول تھا لیکن اس کے مقابلے میں آج اگر باجوڑ، مہمند، خیبر اور درہ آدم خیل کا جائزہ لیا جائے تو ان علاقوں میں طالبان کی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ باالفاظ دیگر ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن پھر بھی تعلیمی اداروں پر تواتر سے حملے جاری ہے اور بظاہر ان واقعات میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

اسی بارے میں