آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 مارچ 2010 ,‭ 19:22 GMT 00:22 PST

’گزشتہ سال 108 خود کش حملے ہوئے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(یہ ویڈیو فٹیج لاہور میں خفیہ ایجنسی کے دفتر کے باہر ہونے والے خود کش بم دھماکے کی ہے۔)

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کے لیے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ہے اور گزشتہ سال کے دوران تیرہ سو کے قریب افراد خودکش حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن نے سال دو ہزار نو کی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ برس پاکستان میں غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق دہشت گردی کے دو ہزار پانچ سو چھیاسی واقعات میں تین ہزار اکیس افراد جانوں سے ہاتھ دھوئے بیٹھے جبکہ سات ہزار تین چونتیس زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایاگیا کہ سال دو ہزار نو میں ایک سو آٹھ خودکش حملے ہوئے جس میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار دو سو چھیانوے ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال سب پہلے خودکش حملہ ڈیرہ اسماعیل میں چار جنوری کو ہوا جبکہ سال کا آخری خودکش حملے کراچی میں عاشورہ کے جلوس میں اٹھائیس دسمبر کو کیا گیا جس میں اکاون افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق کہ سال دوہزار نو میں سب سے زیادہ خودکش حملے صوبہ سرحد میں ہوئے جبکہ پنجاب اس اعتبار سے دوسرے نمبر پر رہا جہاں سات دسمبر کو لاہور کی مون مارکیٹ میں ہونے والے خودکش حملے میں ستر افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال کے دوران کراچی میں دو سو اکانوے افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جس میں سے دو سو سیاسی کارکن تھے جبکہ بلوچستان میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کے لگ بھگ ایک سو چونسٹھ واقعات منظر عام آئے جن میں ایک سو اٹھارہ شہری اور ایک سو اٹھاون سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار نو میں چوالیس ڈرون حملے کیے گئے جن میں صرف پانچ القاعدہ یا طالبان کے اہم رہنما ہلاک ہوئے جبکہ ڈرون حملوں میں سات عام مصوم شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال دو ہزار نو کے دوران ملک کی پارلیمنٹ بہت کم کارروائی ہوئی اور قانون سازی کا زیادہ کام صدر کے خصوصی اختیارات کے تحت آرڈیننس جاری کر کے انجام دیا گیا۔

لاہور میں خود کش حملہ

سب سے زیادہ خود کش حملے صوبہ سرحد میں ہوئے جبکہ پنجاب اس اعتبار سے دوسرے نمبر پر رہا

رپورٹ میں بتایا گیا پچھلے سال میں پارلیمنٹ نے صرف چار قوانین منظور کیے جبکہ باسٹھ آرڈیننس جاری ہوئے جن میں موبائل کورٹس کے قیام کا آرڈیننس بھی شامل ہے جسے حکومت نے سول سوسائٹی کی طرف سے شدید نکتہ چینی کے بعد واپس لے لیا تھا۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار نو میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور مجموعی طور پر ایک ہزار چار سو چار خواتین کو قتل کردیا گیا ۔ ان میں چھ سو سینتالیس خواتین کو ’غیرت‘ کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ سات سوستاون خواتین کو دیگر وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جنسی تشدد کے نو سو اٹھائیس واقعات منظر عام پر آئے۔ پانچ سو تریسٹھ خواتین نے خودکشی کرلی جبکہ دو سو ترپن نے اپنی زندگیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ کہ حکومت گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے نیا قانون نافذ کرنے میں ناکام رہی اورگھریلوں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار نو میں گھریلو تشدد کے دو سو پانچ واقعات سامنے آئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں ان واقعات کی تعداد ایک سو سینتیس تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال دوہزار نو میں موت کی سزا پر عمل درآمد بے ضابطہ طور پر معطل رہا لیکن سال کے دوران دو سو چھتر افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور لگ بھگ سات ہزار سات سو افراد موت کی کوٹھڑیوں میں بند رہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کےدوران ملک بھر میں خودکشیوں کے ایک ہزار چھ سو اڑسٹھ واقعات منظر عام پر آئے۔

انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم اور پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ کراچی اور گوجرہ میں حکومت اس نوعیت کے تشدد کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ دو ہزار نو کے دوران توہین رسالت کے اکتالیس سے زائد واقعات سامنے آئے جبکہ احمدی مسلک سےتعلق رکھنے والے کم از کم پانچ افراد کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا گیا۔سینتیس احمدیوں کےخلاف توہین رسالت ایکٹ جبکہ ستاون احمدیوں کے خلاف انسداد احمدیت قوانین کے تحت مقدمات درج ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تعداد پندرہ تھی جن میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے۔شادیوں کی رجسٹریشن میں قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہندو خواتین کی اکثریت کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ موجود نہیں تھے۔

خود کش حملہ

سال کا پہلا خود کش حملہ ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ آخری کراچی میں یومِ عاشورہ کے جلوس پر ہوا

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔