بھولی بسری بیگم

پاکستان میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ تئیس مارچ کو یوم پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سابقہ خاتون اول بیگم نصرت بھٹو کی سالگرہ کا دن بھی ہے۔

بیگم نصرت بھٹو کا تعلق ایران سے ہے

بیگم نصرت بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی دوسری بیگم اور ان کے چار بچوں کی ماں ہیں۔ان بچوں میں سے صرف ایک بچی صنم بھٹو زندہ ہیں جبکہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو سمیت ان کے بیٹے میر مرتضی اور شاہنواز بھٹو غیر فطری موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

بیگم نصرت بھٹو کے لیے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے آبائی علاقے نوابشاہ میں کہا تھا کہ وہ انہیں زندہ شہید سمجھتے ہیں کیونکہ وہ بولنے اور سننے سے قاصر اور علیل ہیں۔آصف زرداری بیگم نصرت بھٹو کے داماد ہیں۔ ان کے مطابق وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہی کی جس کرسی پر بیٹھے ہیں وہ تین شہیدوں کی امانت ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے بعد انہوں نے بیگم نصرت بھٹو کا نام شہیدوں میں شمار کیا تھا۔

دوسری جانب بیگم نصرت بھٹو کے پوتوں اور میر مرتضی بھٹو کی اولاد فاطمہ بھٹو اور ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا ہے کہ ان کی دادی کو دبئی میں زرداریوں کی حراست سے بازیاب کرایا جائے اور انہیں ان کے پاس رہنے کی اجازت دی جائے۔

ایرانی کرد نسل کی نصرت جان اصفہانی نے بیگم نصرت بھٹو بننے کے بعد اپنی زندگی کے بہت ہی خوشگوار اور تلخ ترین لمحات دیکھے ہیں۔ ان کے آبائی حلقے لاڑکانہ کے لوگوں کو بیگم نصرت بھٹو کا وہ سفر آج بھی یاد ہے جو انہوں نے انیس سو ترانوے کے انتخابات کے دوران اپنے بیٹے مرتضی بھٹو کی کامیابی کے لیے کیا تھا۔

لاڑکانہ کے بزرگ تاجر محمد علی شیخ کے مطابق میر مرتضی بھٹو کے مقابلے میں بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا۔انتخابی مہم کی آخری رات بیگم نصرت بھٹو ننگے پاؤں اور ننگے سر لاڑکانہ کی گلیوں میں پیدل سفر پر نکلی تھیں۔ان کی ایک ہی صدا تھی میرے بیٹے میر کو ووٹ دو۔ بعد میں میر مرتضی اپنی جماعت کے واحد رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اپنی اولاد میں سب سے زیادہ میر مرتضی ان کے قریب تھے۔ ان کے اپنی بیٹی اور وزیراعظم بینظیر بھٹو سے میر کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوگئے مگر جب ستمبر چھیانوے کو کلفٹن کراچی میں میر مرتضی کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تو بیگم نصرت بھٹو اپنی صحت اور سرگرم زندگی کھو بیٹھیں۔

بعد میں بینظیر بھٹو نے انہیں علاج کی خاطر دبئی منتقل کر دیا اور تاحال دبئی میں مقیم ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو اس قدر علیل ہیں کہ انہیں تاحال اپنی بیٹی بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی خبر نہیں بتائی گئی ہے ۔بیگم نصرت بھٹو کو بینظیر کی آخری رسومات سے بھی دور رکھا گیا تھا۔

بیگم نصرت بھٹو انیس سو تہتر سے انیس سو ستتر تک پاکستان کی خاتون اول رہی ہیں۔جبکہ ضیاء مارشل لاء کے دوران انہوں نے جلسوں جلوسوں کی قیادت کی۔ بیگم نصرت بھٹو اپنے آبائی حلقے لاڑکانہ سے دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں اور سینیئر وزیر بھی رہ چکی ہیں۔

اسی بارے میں