گجرات: ضمنی انتخاب میں نون کامیاب

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں صوبائی اسمبلی کے لیے ضمنی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کے امیدوار حاجی عمران نذیر کو کامیاب قرار دیا گیا۔

نواز شریف
Image caption غیر سرکاری نتائج کے مطابق میاں نواز شریف کی جماعت کو تین ہزار تین سو پانچ ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی ہے

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف نے نتائج مسترد کرتے ہوئے حکومتی پارٹی پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کو تین ہزار تین سو پانچ ووٹوں کی برتری حاصل ہوسکی ہے۔

گجرات کے اسسٹنٹ الیکشن کمشنر نے بتایا کہ جیتنے والے امیدوار حاجی عمران نذیر نے ستائیس ہزار چارسو انتالیس ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے امیدوار میاں عمران مسعود کو چوبیس ہزار ایک سو چونتیس ووٹ مل سکے ہیں۔

سنہ دوہزار آٹھ کے عام انتخابات میں ناصرمحمود کو تئیس ہزار سے زائد ووٹ ملے تھے جبکہ مسلم لیگ قاف کے عمران مسعود پندرہ ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دوسرے اور پیپلز پارٹی کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار تیرہ ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھے۔

لیکن پھر یہ نشست مسلم لیگ نون کے امیدوار حاجی ناصر محمود کو الیکشن ٹربیبونل میں نا اہل قرار دیئے جانے کی وجہ سے خالی ہوگئی تھی۔ان پر جعلی ڈگری کا الزام لگایا گیا تھا۔

عدالت نے ناصر محمود کو ضمنی انتخابات میں امیدوار نہیں بننے دیا جس پر مسلم لیگ نون نے عمران نذیر کو ٹکٹ دے دیا۔

پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ مسلم لیگ نون کی حمایت کی۔ ان انتخابات کے لیے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف اور حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے صدر سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلی پرویز الہی خود انتخابی مہم چلاتے اور الیکشن بوتھوں کےدورے کرتے رہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ نون کے صوبائی وزراء کے علاوہ پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر احمد مختار گھر گھر جاکر مسلم لیگ نون کے لیے ووٹ مانگتے رہے۔

انتخابات کے غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہی نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ حکومتی مشینری اور پولیس نے دھاندلی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔چودھری شجاعت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو ان کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اور کئی مقامات پرجعلی ووٹ بھگتائے گئے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایک پولنگ سٹیشن کے ووٹر باکس کھلے ملے تھے۔

مسلم لیگ قاف کے کارکنوں نے گجرات میں احتجاجی ریلی نکالی اور شہر میں لگے مسلم لیگ نون کے بینر اور پوسٹر پھاڑ ڈالے، کارکنوں نے کئی گھنٹے جی ٹی روڈ بلاک رکھی۔

حکومت پنجاب نے دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔مسلم لیگ نون کے میڈیا ایڈوائزرسنیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ انتخابات پُرامن اور منصفانہ ماحول میں ہوئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جیت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار کی ہوئی ہے لیکن سنہ دوہزار آٹھ کے انتخابات کےمقابلے میں ان کے مجموعی ووٹ میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مجموعی ووٹ کم ہوئے ہیں جو سنہ دوہزار آٹھ کے انتخابات میں تقریباً چھتیس ہزار تھے جو کم ہوکر ستائیس ہزار پر آگئے ہیں جبکہ مسلم لیگ قاف کے ووٹوں میں واضح اضافہ ہوا اور یہ پندرہ ہزار سے بڑھ کر چوبیس ہزار ہوگئے۔

اسی بارے میں