ساحل اغوا: مزید دو ملزم گرفتار

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم سے پولیس نے برطانوی بچے ساحل سعید نقاش کے اغوا میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ساحل کو چار مارچ کو جہلم سے اغوا کیا گیا اور سولہ مارچ کو بازیاب ہوئے

جمعرات کو ایک پریس کانفرس میں پولیس نے گرفتار کیے گئے دونوں ملزموں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ بی بی نیوز کے نامہ نگار علیم مقبول کے مطابق پریس کانفرس کے دروان دونوں افراد کے چہرے کالے ماسک سے چھپائے گئے تھے لیکن ایک مقامی صحافی مائیکرو فون ایک ملزم کے قریب لیجانے میں کامیاب ہو گئے۔

ملزم نے بتایا کہ ’ انھوں نے ساحل کی دیکھ بھال اسی طرح کی جیسے کہ وہ اپنے خاندان کے کسی بچے کی کر سکتے تھے۔‘

راولپنڈی پولیس کے سربراہ اسلم ترین نے اس موقع پر بتایا کہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کا تعلق جہلم سے ہے۔ پولیس کے مطابق ساحل کے اغوا میں ان کے خاندان کا کوئی فرد ملوث نہیں ہے اور یہ کارروائی ایک عام گروہ نے کی تھی۔

اسلم ترین نے بتایا کہ یہ گروہ اغوا کی واردات کرنا چاہتا تھا اور اس مقصد کے لیے مختلف گھروں کو دیکھ رہا تھا کہ انھیں ساحل کے گھر کا دروازہ کھلا ہوا مل گیا۔ اس سے پہلے ساحل کے والد نے کہا تھا کہ انھوں نے گھر کا دروازہ اس لیے کھلا چھوڑا تھا کیونکہ وہ گاڑی میں سامان رکھنے کی تیاری کر رہے تھے۔

پولیس سربراہ اسلم ترین نے کہا کہ ملزموں کو اغواء کا خیال اسی وقت آیا اور انھوں نے لڑکے کو ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا اور ’ یہ سب کچھ اچانک تھا۔‘پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزموں نے معمولی مزاحمت کی اور ملزموں کے قبضے سے ساحل کے گھر سے چوری کیا گیا سامان اور اسلحہ باردو بھی برآمد ہوا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے علاقے اولڈھم سے تعلق رکھنے والے ساحل کو تین مارچ کو اس وقت اغواء کر لیا گیا تھا جب وہ اور ان کے والد چھٹیاں گزارنے کے بعد جہلم میں اپنے رشتے داروں کے گھر سے واپس برطانیہ جانے والے تھے۔انہیں تیرہ دن بعد سولہ مارچ کو پاکستان کے ضلع گجرات کے علاقے ڈنگہ میں رہا کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی نیوز کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں مشتبہ افراد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی اغوا کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے ملزموں کا تعلق بائیس افراد کے قتل سے بھی ہے۔ راولپنڈی پولیس کے سربراہ اسلم ترین نے کہا ہے کہ ساحل کا اغوا موقع پرستی کا ایک واقعہ تھا۔

ُادھر ساحل کی والدہ عقیلہ نقاش نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کا بیٹا امید کر رہا کہ وہ اگلے ہفتے سے سکول جانا شروع کر دے گا لیکن اس نے اپنی آپ بیتی کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ ساحل کے اغوا کے واقعے کے بعد دوبارہ پاکستان نہیں جائیں گی۔

ساحل کے اغوا میں ملوث افراد کی گرفتاری کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ گرفتاریوں کے متعلق زیادہ نہیں جانتی ہیں لیکن ’ اگر اصل افراد‘ کو گرفتار کیا گیا ہے تو وہ امید کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

ساحل کے بازیابی کے لیے ان کے خاندان نے ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی رقم ادا کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے اغواء کے سلسلے میں سپین سے تین اور فرانس سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سپین سے گرفتار کیے گئے ایک ملزم پاکستان سے گرفتار کیے گئے ایک ملزم کے بھائی ہیں۔ پولیس کے مطابق ساحل کے اغواء میں ان کے خاندان کا کوئی فرد ملوث نہیں ہے۔

اسی بارے میں