تجارت سمیت دیگر شعبوں پر تعاون: مشترکہ اعلامیہ جاری

واشنگٹن میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان دو روزہ سٹریٹیجک مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک نے مربوط تعاون کے سلسلے کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اب اسلام آباد میں ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک پالیسی اسٹیئرنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر غور کرے گا ۔ ان شعبوں میں معیشت، تجارت، دفاع، سیکیورٹی، عدم جوہری پھیلاؤ، سائنس اور ٹیکنالوجی، زراعت، پانی، صحت، مواصلات اور پبلک ڈپلومسی شامل ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ بیان میں تجارت کے حوالے سے کئی اہم عزائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستانی صنعت کی امریکی منڈیوں تک رسائی میں پوری مدد کرے گا اور وہ پاکستان میں خصوصی تجارتی زون بھی قائم کرے گا۔

جمعرات کی شام کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق امریکہ پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈی تک رسائی کے لیے کوششیں کرتا رہے گا اور پاکستان میں خصوصی تجارتی زون کے منصوبے کو حتمی شکل جلد دے دی جائے گی اور اس سلسلے میں امریکی کانگریس میں قانون سازی جلد متوقع ہے۔

’ری کنسٹرکشن اپرچیونٹی زون‘ کہلانے والے ان تجارتی زون میں قائم صنعتوں کو ڈیوٹی سے مستثنیٰ کیا جائے گا اور کئی خصوصی رعایتیں دی جائیں گی۔ دونوں ممالک نے باہمی سرمایہ کاری معاہدے یعنی ’فری لاریڈ اگریمنٹ‘ پر مزید بات چیت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے

اعلامیے میں امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے عوام کو دہشت گردی کے خلاف ان کی بہادری اور عزم پر خراج تحسین پیش کیا اور دونوں ممالک نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی دونوں ممالک کے علاوہ خطے اور دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔ دونوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی سے مؤثر انداز سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں گے۔

اعلامیےمیں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے سامنے معاشی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنے میں تکنیکی اور معاشی مدد فراہم کرے گا۔ اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ براہِ راست سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے فنڈ سے پاکستان میں توانائی کے شعبے اور دیگر اہم پروگراموں کو مدد ملے گی۔

اعلامیہ میں پاکستان میں پانی کی ضروریات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس معاملے کی اہمیت کے مدنظر اسے ذخیرہ کرنے اور اس کا بہتر استعمال کرنے کی غرض سے سٹریٹجک مذاکرات کا خاص حصہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے امریکہپاکستان کو مدد فراہم کرے گا۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے سلسلے کا آئندہ اجلاس امریکی اور پاکستانی وزراء خارجہ کی زیرقیادت اسلام آباد میں ہو گا۔

خصوصی تجارتی زون

مذاکرات میں پاکستانی وفد کی رہنمائی کرنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستانی مصنوعات کے لیے رعایتوں سے متعلق امریکی کانگریس میں قانون سازی دونوں کے اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس قانون سازی کے ذریعے امریکہ پاکستان کی تجارت و صنعت کو کئی رعایتں دے سکے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ مستقبل میں امریکہ پاکستان کے ساتھ ایک’فری ٹریڈ اگریمنٹ‘ یعنی آزاد تجارت کے معاہدے پر اتفاق کر لے کیونکہ اس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس نوعیت کے معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تمام تجارتی نرخ ختم کر دیے جاتے ہیں اور ان کے لیے خصوصی قواعد و ضوابط بنائے جاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس نوعیت کے معاہدے پر بات چات جاری رکھیں گے۔

تاہم امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ فری ٹریڈ اگریمنٹ کا ابھی کم امکان ہے۔ رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک اعلی امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کا امکان اس لیے کم ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایسے معاہدوں کے لیے کولمبیا اور جنوبی کوریا قطار پہلے ہی میں کھڑے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں