مراد، دیگر قیدی وطن واپس

بھارت سے رہا ہونے والے سترہ پاکستانی قیدی واہگہ کے راستے لاہور پہنچ گئے ہیں۔

مراد کشمیری لڑکی نسیمہ کے ساتھ: فائل فوٹو
Image caption پاکستانی مراد اب بھی نسیمہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں

ان میں پشاور کے نوجوان مراد بھی ہیں جو بھارتی پولیس کے بقول شدت پسند کے طور پر بھارت داخل ہوئے تھے لیکن ایک ہندوستانی لڑکی سے دل ہار گئے۔

مراد کو ہندوستانی لڑکی نسیمہ کے ہمراہ اپریل سنہ دوہزار پانچ کو راجھستان کے شہر مناباؤ سےگرفتار کیا گیا تھا جہاں سے وہ دونوں ٹرین سروس کے ذریعے پاکستان جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

پانچ برس سے زیادہ قید کاٹنے کے بعد مراد سترہ دیگر قیدیوں کےہمراہ واپس لوٹے اور کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد جیسے ہی انہیں میڈیا سے گفتگو کرنے کی اجازت ملی تو انہوں سب سے پہلا ذکر کشمیری محبوبہ کاکیا جس سے وہ آج بھی شادی کے خواہشمند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’پہلے میری اس لڑکی سے دوستی ہوئی پھر ہمیں پیار ہوگیا۔ ہم پاکستان آکر شادی کرنا چاہتے تھے کیونکہ میرے گھر والوں کی خواہش تھی کہ شادی یہاں پاکستان میں کی جائے۔‘

بھارتی پولیس کے مطابق مراد شدت پسند بن کر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے اور گرفتاری کے وقت انہوں نے خود کو ہندوستانی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی اور عدالت نے انہیں تین برس جبکہ نسیمہ کو گیارہ مہینے قید کی سزا دی تھی۔

نسیمہ قید کاٹنے کے بعد واپس کشمیر چلی گئی جبکہ مراد سزا کے تین برس پورے کرنے کے بعد بھی رہا نہ ہوسکے اور انہیں تعزیرات ہندوستان کی دفعہ ایک سو نو کے تحت نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اب اپنی سزا پوری کرلینے والے دیگر سولہ قیدیوں کے ہمراہ انہوں نے سرحد پار کرنے کے بعد کہا کہ وہ پانچ برس کی قید کاٹنے کے بعد پاکستان لوٹنے پر تو خوش ہیں لیکن نسیمہ انہیں نہیں بھولتی۔انہوں نے کہا کہ اس شادی پر نہ صرف ان کا خاندان بلکہ نسیمہ کے اہلخانہ بھی رضا مند تھے۔

’پہلے تو نسیمہ کے والد رضا مند نہیں تھے لیکن گرفتاری کے بعد وہ بھی شادی کے حق میں ہوگئے تھے۔‘

مراد نے کہا کہ وہ آج بھی نسیمہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی وہ اپنی محبوبہ کو پانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کریں گے۔

مراد سمیت پاکستان لوٹنے والے تمام قیدی مختلف الزامات کے تحت بھارت میں جیل کی سزا کاٹ چکے تھے اور اب وطن واپسی کے انتظار میں کئی مہینوں سے دہلی کے ایک کیمپ جیل میں بند تھے۔ان کے لواحقین نے متعدد بار پاکستانی اور بھارتی حکام سے ان ک رہائی کی اپیلیں کی تھیں اور ہندوستان میں بھی عدالت سے رجوع کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔

یہ قیدی پاکستان پہنچے تو ان کے عزیز واقارب نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا، پھولوں کے ہار پہنائے اور گلے سے لگایا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ضروری پوچھ گچھ کے بعد تمام قیدیوں کو گھر جانے کی اجازت دیدی جائے گی۔

اسی بارے میں