والدین کی پریشانی

تباہ ہونے والا ایک سکول

ہر ماں باپ کی یہ ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی سکول سے غیر حاضر نہ رہے بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت سکول میں گزارے تاکہ ان کے بچے سکول کے ہر امتحان میں امتیازی پوزیشن سے پاس ہوں لیکن قبائلی علاقوں میں سکولوں پر جاری حملوں کے واقعات نے والدین کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ بچوں کو سکول نہ ہی بھیجیں تو بہتر ہے کیونکہ اس سے کم سے کم ان کے بچے محفوظ تو رہیں گے۔

آجکل شاہد ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہے جس میں کسی نہ کسی قبائلی علاقے میں کوئی سرکاری یا نجی سکول کو تباہ نہ کیا جاتا ہو۔ جمعہ کی رات بھی دو قبائلی ایجنسیوں مہمند اور خیبر میں دو مزید سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بناکر تباہ کیا گیا۔ تعلیمی اداروں پر حملوں کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اتنی ہی بے توجہی کا مظاہرہ بظاہر ارباب اختیار کی طرف سے دیکھنے میں آرہا ہے۔

حالیہ دنوں میں سکولوں پر حملوں کے سب سے زیادہ واقعات مہمند، خیبر اور باجوڑ ایجنسی میں پیش آئے ہیں جہاں اب صورتحال یہ ہے کہ روزانہ کے حساب سے سکول تباہ ہورہے ہیں۔

Image caption شدت پسند سکولوں کو نشانہ بنا ہے ہیں، بچوں کے لیے والدین سخت پریشان ہیں

باجوڑ ایجنسی میں ان حملوں کے باعث تقریباً اٹھارہ ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہے۔ چند ہفتے قبل جب حکومتی دعوؤں کے مطابق باجوڑ میں طالبان کے زیر قبضہ تمام اہم علاقے کلئیر ہوگئے تو حکومتی حمایت یافتہ لوگوں نے وہاں بھنگڑے ڈال کر جشن منایا کہ اب باجوڑ سے شدت پسندوں کا صفایا ہوگیا اور حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی اور اس طرح تعلیمی اداروں کے کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ ابھی ان سکولوں کو کھولے ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک مرتبہ پھر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اور اب تک تازہ واقعات میں تقریباً سات کے قریب سرکاری سکولوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ مجموعی طورپر باجوڑ میں گزشتہ ایک دو سالوں کے دوران اسی کے لگ بھگ تعلیمی ادارے بم دھماکوں میں تباہ کئے گئے ہیں

باجوڑ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب علاقے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بحال ہی نہیں تھا تو ایسے حالات میں سکول کھولنے کا کیا فائدہ، اس سے تو یہ بہتر ہوتا کہ تعلیمی ادارے بند ہی رہتے کیونکہ اس سے وہ اس حد تک تو مطمئین ہوتے کہ کم سے کم ان کے بچوں کی زندگیاں تو محفوظ ہیں۔

گزشتہ روز پشارو پہنچنے والے باجوڑ کے ایک باشندے کے مطابق لوگوں نے سکولوں پر حملوں کے تازہ واقعات کے بعد دوبارہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کردیا ہے۔ ان کے بقول’ اگر حکومت ان حملوں کو روکنے میں ناکام ہے تو پھر ہم کیوں اپنے بچوں سکول بھیجنے کا خطرہ مول لیں، اس سے بہتر ہے کہ گھر میں ہی رہے ، کم سے کم سارا دن ٹینشن تو نہیں رہی گی کہ کب حملہ ہوتا ہے اور کب بچہ گھر آتا ہے وغیرہ ۔

انہوں نے کہا کہ تباہ شدہ سکولوں میں سے دو تین کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے جبکہ بقیہ تعلیمی ادارے بدستور تباہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کی بحالی کے حوالے سے حکومت کی طرف سے تاحال کوئی اقدام نہیں لیا گیا ہے

Image caption تعلیم حاصل کرنا ایک خطرناک عمل بن گیا ہے

حکومت کی طرف سے عام طورپر یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ چونکہ سکولوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے ہر تعلیمی ادارے کو سکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی۔ اگر ایسا ہے تو پھر مقامی لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر اس کا حل کیا ہے، کیا لوگ ایسے ہی سکولوں کی تباہی دیکھتے رہیں گے اور وہ کب تک اپنے بچے سکول نہیں بھجیں گے؟

ان حملوں کے باعث ہزاروں طلبہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔ قبائلی علاقوں تعلیم کی شرح دیگر علاقوں کے مقابلے پہلے ہی انتہائی کم رہی ہے اور سکولوں کے بندش کے باعث وہاں شرح تعلیم کے مزید کم ہونے کے امکانات ہیں۔

بالکل ایسی ہی صورتحال وادی سوات میں بھی تھی جب وہاں سکولوں پر دھڑا دھڑ حملے ہو رہے تھے لیکن پھر سب نے دیکھا کہ ایک موثر آپریشن کے بعد وہاں حالات اچانک نارمل ہوئے۔ اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک قبائلی علاقوں میں سوات جیسا موثر آپریشن نہیں ہوگا وہاں تعلیمی سلسلہ منطقع رہے گا۔

اسی بارے میں