سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ، تیس ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ایک مرکز پر ہونے والے حملے میں کم سے کم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ جوابی حملے میں پچیس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

تاہم سرکاری ٹی وی کے مطابق سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر یہ خودکش حملہ تھا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیابی رات باڑہ سب ڈویژن کے علاقے سپاہ میں اس وقت پیش آیا جب پچاس سے ساٹھ کے قریب مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک قلعہ جانسی پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے قلعے پر حملے کےلیے بارود سے بھری ایک گاڑی کا بھی استعمال کیا جس کم سے کم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں ساری رات جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ باڑہ سب ڈویژن میں زشتہ چند ماہ سے شدت پسند تنظیموں ے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت دو تین مرتبہ یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ باڑہ کو عسکریت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود وہاں سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں