سرکاری گواہوں کے بیانات شروع

Image caption امریکی ملزمان پولیس کی حراست میں (فائل فوٹو)

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے ان پانچ امریکی ملزمان کے خلاف مقدمے میں سرکاری گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیئے ہیں جن پر شدت پسندوں کے ساتھ مل کر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

مقدمہ کی سماعت سرگودھا جیل کے اندر ہوئی ۔ کارروائی کے بعد سرکاری وکیل ندیم اکرم چیمہ نےبی بی سی کو بتایا کہ بدھ کے روز پانچ سرکاری گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جن میں سرگودھا کی ضلعی سربراہ یعنی ڈی پی او ڈاکٹر عثمان انور بھی شامل ہیں۔

سرکاری وکیل کے مطابق امریکی ملزمان کے وکیل نے چار سرکاری گواہوں سے جرح مکمل کرلی ہے جبکہ پولیس آفیسر پر جرح کے لیے مہلت طلب کی ہے جس پرعدالت نے ڈی پی او ڈاکٹر عثمان پر جرح آئندہ سماعت تک ملتوی کردی۔

ندیم اکرم چیمہ نے بتایا کہ جن سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے ان میں ان ہوٹلوں کے مینجر بھی شامل ہیں جہاں امریکی شہریوں نے قیام کیا تھا۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت سترہ اپریل تک ملتوی کردی اور سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ ائندہ سماعت میں مزید سرکاری گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

سرکاری وکیل نے امکان ظاہر کیا کہ اس مقدمے میں دو درجن تک سرکاری گواہ پیش ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے گرفتار پانچوں امریکی شہریوں کے خلاف فردجرم عائد کردی تھی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ان پانچوں امریکی شہریوں کو سرگودھا میں نو دسمبر کو مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ پولیس کے بقول یہ پانچوں نوجوان امریکی شہریت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے دو کا آبائی ملک پاکستان ، ایک کا ایتھوپیا ، ایک اریٹیریا اور ایک کا تعلق مصر ہے۔

پاکستان پولیس حکام کے مطابق یہ پانچوں امریکی شہری امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔

اسی بارے میں