’بے نظیر قتل رپورٹ کا تحمل سےانتظار کریں‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم سید یوسف گیلانی نے قومی اسمبلی کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو قتل کی تحقیقات سے متعلق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا تحمل سے انتظار کریں۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزبِ اختلاف کے رکن رضا حیات ہیراج کے نکتہ اعتراض پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا متعلقہ شخص یعنی کہ وزیرِ داخلہ کو آنے دیں جو ترکی کے صدر عبداللہ گل کے ساتھ مصروف ہیں اور وہ ایوان کو جواب دیں گے۔

ُان کا کہنا تھا کہ اس ایوان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ طور پر اقوامِ متحدہ سے بے نظیر بھٹو قتل کی تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا تھا لہذا وہ کس طرح اس میں تاخیر چاہیں گے۔

’بےبنظیر بھٹو ہماری رہنما ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی جمہوریت، عوام اور پاکستان کے لیے قربان کی۔‘

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جب متعلقہ شخص ایوان میں موجود نہ ہو تو اس مسئلے پر بات نہیں کی جانی چاہیے۔

رضا حیات ہیراج نے کہا ’اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اکتیس مارچ کو سیکریٹری جنرل کو پیش کی جانی تھی لیکن ان تحقیقات کو جن پر بڑی رقم خرچ کی گئی ہے اب حکومتِ پاکستان کے کہنے پر ملتوی کر دی گیا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کو بھی بے نظیر بھٹو قتل کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار ہے کیونکہ انہیں ’قاتل مسلم لیگ‘ کے نام بھی دیے گئے تھے۔

وزیرِ تجارت مخدوم امین فہیم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اگر ’مسلم لیگ قاف قتل کے الزام سے بری ہوگئی‘ تو پھر ان سے ان لوگوں کو معافی مانگنی ہوگی جنہوں نے ان پر الزامات عائد کیے تھے۔

وفاقی وزیرِ پٹرولیم و قدرتی وسائل سید نوید قمر نے کہا کہ بے نظیر قتل کی تحقیقاتی رپورٹ اپریل میں پوری دنیا کے سامنے آ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی تاخیر کی درخواست اس لیے کی گئی ہے تاکہ اس میں جن عناصر کی نشاندہی کی جانی ہے وہ قبل از وقت اس کا توڑ نہ کر سکیں۔ اُن کا موقف تھا کہ اس رپورٹ پر پاکستان کے مستقبل کے لائحہِ عمل کا دارومدار ہے۔

وفاقی وزیرِ محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کےلئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ جس سے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ تسنیم احمد قریشی نے قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ میں اغواء برائے تاوان اور گاڑیوں کے چھینے جانے کے معاملے پر آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر کے ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں