’ڈاکٹروں اور صحافیوں میں ہاتھا پائی‘

لاہور کے جناح ہسپتال میں ڈاکٹروں اور صحافیوں میں ہاتھا پائی کے بعد مقامی صحافیوں اور کیمرہ مینوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فائل فوٹو، صحافیوں کا احتجاج
Image caption ڈاکٹروں نے زخمی صحافیوں کو طبی امداد دینے سے بھی انکار کردیا جس پر ریسکیو ون ون ٹو ٹو کی ایمبولینس بلا کر انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی: محمد الیاس

وزیر اعلیٰ پنجاب نے بدھ کی شام کو پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک مریضہ فرزانہ کی جناح ہپستال میں ہلاکت کی کوریج کے لیے گئے تو نوجوان ڈاکٹروں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر حملہ کر دیا اور انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

جیوٹی وی کے نمائندے میاں عابد نے بتایا کہ مریضہ کی ہلاکت مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی اور ان کے لواحقین نے مبینہ طور پر ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور ذرائع ابلاغ کےنمائندے خود نوجوان ڈاکٹروں کے اطلاع کرنے پر کوریج کے لیے گئے تھے لیکن پھر خود ہی ڈاکٹروں نے کوریج سے منع کیا اور پھر تشدد شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جناح ہپستال کے پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرم نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے طلبہ کو بلوا کر میڈیا پر حملہ کیا جس سے میاں عابد کے بقول دو درجن کےقریب صحافیوں کو چوٹیں آئی ہیں۔

ایکپسریس ٹی وی کے بیورو چیف محمد الیاس نے کہا کہ ڈاکٹروں نے زخمی صحافیوں کو طبی امداد دینے سے بھی انکار کر دیا جس پر ریسکیو ون ون ٹو ٹو کی ایمبولینس بلا کر انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والی مریضہ لاہور کے ایک نجی ٹی وی کے کیمرہ مین کی رشتہ دار تھی اور اس کی ہلا کت کے بعد اس کے لواحقین نے ڈاکٹر وقار کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ڈاکٹر سلمان نے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر پر بلاجواز تشدد کے خلاف میڈیا کو اطلاعات دی لیکن میڈیا نے الٹا ڈاکٹروں کے خلاف کوریج شروع کردی تھی۔

انہوں نے کہا نوجوان ڈاکٹروں نے میڈیا کو کہا کہ وہ اگر ان کے حق میں بات نہیں کرسکتے تو پھر یہ کوریج بند کر دیں اس دوران میں ہاتھا پائی شروع ہوگئی اور حالات قابو سے باہر ہوتے چلے گئے۔

ڈاکٹروں نے میڈیا کے رویے کے خلاف جناح ہسپتال کےسامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹریفک بلاک کیے رکھی۔ لاہور کے صحافیوں نے چیئرنگ کراس اور فیصل ٹاؤن میں احتجاجی مظاہرے اور ڈاکٹروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا کے اراکین کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ڈاکٹروں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں۔

اسی بارے میں