جنرل مشرف کی سیاسی جماعت

  • جعفر رضوی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف ’آل پاکستان مسلم لیگ‘ نامی نئی سیاسی جماعت کی بیناد رکھنے والے ہیں اور اپنی سیاسی جماعت کے اہداف اور سرگرمیوں پر غور کے لیے وہ دو اپریل کو ابوظہبی میں اپنے ہم خیال لوگوں سے تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل مشرف کے دور میں وزیر قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کی رجسٹریشن اگلے ہفتےہوگی اور جماعت کی تنظیم سازی، سیاسی اہداف اور سیاسی سرگرمیوں کے آغاز پر غور کے لئے جمعہ دو اپریل کو جنرل (ر) مشرف سمیت مسلم لیگ قاف کے کئی سرکردہ ارکان ابو ظہبی پہنچ رہے ہیں۔

ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے کہا کہ یہ نئی جماعت یعنی آل پاکستان مسلم لیگ قریباً بن چکی ہے اور پارٹی کی رکنیت سازی بھی کی جاسکتی ہے مگر اس کا باقاعدہ کام آئندہ ہفتے پارٹی کی رجسٹریشن کے بعد باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ہوگا اور انہی امور پر غور کے لئے ڈاکٹر شیر افگن اور جنرل (ر) مشرف سمیت کئی اہم رہنما جمعہ کو ابو ظہبی پہنچ رہے ہیں۔

ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے بتایا کہ بطور صدر سابق جنرل مشرف پر ریٹائرمنٹ کے بعد عملی سیاست میں حصہ کی پابندی کی مدت دو برس تک تھی، جو مارچ کی بیس تاریخ کو پوری ہوچکی اور اب صدر مشرف سو فیصد ارادہ رکھتے ہیں کہ پاکستان جائیں پارٹی بنائیں اور عملی سیاست کریں۔

ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے مزید کہا کہ امیر مقام، اعجاز درانی سمیت کئی اہم رہنما نئی سیاسی جماعت میں شامل ہوجائیں گے اور صدر مشرف اس کی قیادت سنبھالیں گے۔

مسلم لیگ قاف کے سابق رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی کہا کہ صدر مشرف کو کسی کا کوئی ڈر خوف نہیں اور وہ جلد ہی پاکستان لوٹ آئیں گے تاکہ اپنی سیاسی جماعت کی قیادت کرسکیں جس کا منشور انہوں نے خود لکھا ہے، اور منشور سب سے پہلے پاکستان پر مبنی ہے۔

انتہا پسندی کے بارے میں نئی سیاسی جماعت کے موقف سے متعلق سوال پر ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی نے کہا کہ جنرل مشرف کے دورا اقتدار کی پالیسی جاری رہے گی شدت پسندوں اور شدت پسندی کو کچل دیا جائے گا کیونکہ وہ بقول ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی، پاکستان کے دشمن ہیں۔