پشاور میں اے این پی کا جشن

عوامی نیشنل پارٹی کا یہ ایک سیاسی نعرہ رہا ہے قوم پرست جماعت عوامی نشینل پارٹی کی طرف سے صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خواہ رکھنے پر صوبہ بھر میں جشن منانے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو پشاور میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے ڈھول کے تاپ پر بھنگڑے ڈالے اور رقص کیا۔

قیوم سٹیڈیم پشاور میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں اے این پی کے درجنوں کارکن سرخ ٹوپیاں پہنے ہوئے صوبے کے نام کی تبدیلی پر خوشی کا اظہار رہے تھے۔ اس موقع پر کارکنوں کے علاوہ پارٹی کے بعض وزراء اور ارکان اسمبلی نے بھی پشتون قومی ترانوں پر ڈول کے تاپ پر رقص کیا اور بھنگڑے ڈالے۔

ادھر صوبے کے نام کی تبدیلی پر مختلف سیاسی جماعتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے الگ الگ موقف کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ قاف کے صوبائی صدر امیر مقام کا کہنا ہے کہ ’ اس نام سے انھیں جو بو آرہی ہے، انکی کی پارٹی قیام پاکستان سے اسکی مخالف رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اے این پی کے جو عزائم ہیں ان سے سب لوگ واقف ہیں۔ پہلے ان کے ایک پارٹی لیڈر نے یہ کہا کہ پاکستان کے نام سے اسلامی جمہوریہ کا لفظ ہٹایا جائے جبکہ دوسرے نے یہ کہا کہ اردو قومی زبان نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے پہلے صوبہ سرحد کا نام صرف پختون خواہ رکھنے کی حمایت کی تھی وہ جماعتیں اب پختون خواہ کی بجائے خیبر پختون خواہ نام کی مخالفت کررہی ہیں ان میں پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور جمعیت علماء اسلام (ف) بھی شامل ہیں۔

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ خیبر پختون کا فیصلہ تخت لاہور سے آیا ہے جو ان کے بقول ’پختونوں کےلیے فخرکی بجائے ایک طعنہ ہے۔’

پشاور یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمینٹ کے سابق پروفیسر اقبال تاجک کا کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی سے پختونوں کو ایک شناخت ضرور ملی ہے لیکن اس سے عوام کی زندگی میں تبدیلی آنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب سیاسی نعرے ہیں جن کا مقصد عوام کے انکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔

تاہم دوسری طرف عوامی نیشنل ہارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سنیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ ایک متفقہ نام ہے اور اس نام سے پاکستان کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جس کمیٹی نے اس نام کی منظوری دی ہے اس میں سب سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہزاروں ڈویژن کے عوام اس نام سے خوش نہیں۔

اگر ایک طرف صوبے کے نام کی تبدیلی عوامی نیشنل پارٹی کا ایک سیاسی نعرہ رہا تو دوسری طرف اس نعرے کو عوام میں بھی پذیرائی اس وجہ سے حاصل ہوئی کیونکہ مبصرین کے مطابق شمال مغربی صوبہ سرحد کوئی نام نہیں تھا اور پشتونوں کو ایک شناخت کی بھی ضرورت تھی جبکہ پاکستان میں شہروں کے نام تبدیلی کی روایت بھی پہلے سے موجود رہی ہے۔

اسی بارے میں