فیصل آباد: فائرنگ سےتین احمدی تاجر ہلاک

Image caption رواں سال میں یہ پانچویں احمدی ہیں جنہیں مذہبی بنیادوں پر قتل کیا گیا: جماعت احمدیہ

پاکستانی پنجاب کے شہر فیصل آباد میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے تین تاجروں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں عقیدے کے بنیاد پر ہلاک کیا گیا ہے اور فیصل آباد میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کاروباری احمدیوں کو ان کے عقیدے کی وجہ سے قتل کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ریل بازار کے دو تاجر بھائیوں ساٹھ سالہ شیخ اشرف اور ستاون سالہ شیخ مسعود اور ان میں سے ایک کا جوان بیٹا آصف مسعود جمعرات کی رات دس بجے اپنی کار میں گھر لوٹ رہے تھے جب راستے میں مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔

فیصل آباد کے سپرنٹنڈنٹ پولیس صادق علی ڈوگر نے بی بی سی کو بتایاکہ تینوں مقتولین کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی البتہ یہ ثابت ہوا ہے کہ حملہ آوروں کا ہدف تینوں ہی تھے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قتل مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے۔جماعت احمدیہ کے رکن نصراللہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں احمدیوں کے خلاف باقاعدہ نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے اور حکومت انہیں تحفظ دینے میں ناکام ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیصل آباد میں کاروباری احمدیوں کو ایک منصوبے کےتحت قتل کیا جا رہا ہے اور کچھ عرصے پہلے بھی ایک احمدی تاجر کو ہلاک کیاگیا تھا۔

پاکستان کی پارلیمان احمدیوں کو غیر مسلم قراردے چکی ہے جبکہ سنہ انیس سو چوراسی کے امتناع قادیانیت آرڈنینس کے بعد ان پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان کے کہنا ہےکہ اس آرڈننیس کے نفاذ کے بعد ان کے خلاف متعصبانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا اور اب تک کم از کم ایک سو دس احمدیوں کو مذہبی منافرت کی بنیاد پر قتل کیا جاچکاہے۔

فیصل آباد پولیس نے تہرے قتل کے الزام میں نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

اسی بارے میں