اٹارنی جنرل انور منصور خان مستعفی ہوگئے

فائل فوٹو
Image caption انور منصور کو چند ماہ پہلے لطیف کھوسہ کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جمعہ کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

انور منصور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ وزیرِ قانون اور وزارتِ قانون کی جانب سے تعاون حاصل نہ ہونے کی وجہ سے مستعفی ہوئے ہیں۔

سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوئس مقدمات کے لیے وزارتِ قانون سے معلومات طلب کی تھیں۔

مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ سوئس مقدمات کے لیے خط لکھنا بہت ضروری ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ انور منصور خان کا موقف ہے کہ آئینی معاملات نمٹانے کے لیے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی تھیں۔

وزارت قانون کے ترجمان نے اٹارنی جنرل کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ انور منصور کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ تھا۔ وزارت قانون کے ترجمان نے کہا کہ وزارت قانون کو اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کا مکمل ادراک ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ منصور خان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد کرے۔

یاد رہے کہ این آر او کے حوالے سے سوئس مقدمات کے دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں منصور علی خان نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وزارتِ قانون ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودہری نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ یہ بات نوٹ کر لی جائے اور یہ کہ وزیرِ قانون کو بھی عدالت طلب کیا جا سکتا ہے۔

پتہ چلا ہے کہ انور منصور خان نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو بھجوا دیا ہے۔ انھیں گزشتہ برس سردار لطیف کھوسہ کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں