اٹھارویں ترمیم کا بل ایوان میں

آئینی اصلاحات کمیٹی کی نو ماہ کی کاوشیں آخر آج اس وقت رنگ لے آئیں جب اس کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی نے قومی اسمبلی میں اٹھارویں آئینی ترامیم کا بل مسرت سے ڈیسک بجاتے ہوئے اراکین کے شور میں پیش کر دیا۔

آئینی اصلاحات کی کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی قومی اسمبلی کی سپیکر فہیمدا مرزا کو اٹھارویوں ترمیم کا مسودہ پیش کر رہے ہیں

سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے معمول کی کارروائی روک کر سینٹر رضا ربانی کو بل پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

رضا ربانی نے جو ترامیم پیش کیں ہیں ان میں دو ہزار دو میں منظور ہونے والے ایل ایف او، سترہویں آئینی ترمیم، صوبوں سے متعلق کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو واپس لینے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

سینٹر رضا ربانی کی جانب سے بل پیش کیے جانے سے قبل وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان میں اپنے خطاب میں آج کے دن کو تاریخی قرار دینے ہوئے امید ظاہر کی کے ان ترامیم کے ذریعے ادارے مضبوط ہوں گے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ توقع ہے کہ آئینی اصلاحات کی کمیٹی کا مجوزہ ترامیمی بل جمعہ کے روز ایوان میں پیش کر دیا جائے گا تاہم اس کی منظوری پانچ اپریل کو صدر کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد متوقع ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیال ہے کہ مجوزہ بل پارلیمان کی آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی جوکہ وزیر اعظم کے مشیر قانون بھی ہیں ایوان میں پیش کریں گے۔ بل کو منظوری کے لیے کن مراحل سے گزرنا ہوگا اس سلسلے میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اس بل کی ہر شق کی مرحلہ وار بحث کی بعد ایوان کو دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری دینا ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بل ایوان بالا یعنی سنیٹ بھیجا جائے گا جہاں سے اس کی توثیق کے بعد صدر کے پاس حتمی دستخط کے لیے اسے بھیج دیا جائے گا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو اٹھارویں ترمیم کا مسودہ پیش کیا تھا۔

اس موقع پر میاں رضا ربانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور جمہوری پاکستان کی بنیاد کو سامنے رکھتے ہوئے صوابدیدی اختیارات ختم کر کے اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

یاد رہے کہ اصلاحاتی کمیٹی کا مینڈیٹ فوجی سربراہان کے دور میں متعارف کردہ ترامیم ختم کرکے آئین کو انیس سو تہتر والی شکل میں بحال کرنا ہے۔ یہ کمیٹی صدر کے اختیارات وزیراعظم اور پارلیمان کو سونپے جانے اور اسمبلی توڑنے کے بارے میں صدر کا اختیار ختم کرنے پر بھی کام کر رہی تھی۔

اٹھارویں ترمیم کے مسودے پر گزشتہ ماہ مارچ کی پچیس تاریخ کو دستخط ہونے تھے لیکن پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ ججوں کی بھرتی کے طریقہ کار اور صوبہ سرحد کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

طے شدہ نکات پر دوبارہ غور نہیں ہو گا: ربانی

کوئی ’یو ٹرن‘ نہیں لیا: نواز شریف

ججوں کی بھرتی، آئینی پیکج تعطل کا شکار

ایوانِ صدر کا کردار محض ’پوسٹ آفس‘ والا رہ جائے گا

بدھ کو رات گئے مسودے پر اتفاق رائے سے دستخط کیے گئے۔ اٹھارویں ترمیم میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن میں نواز لیگ کی تجویز کو منظور کیا گیا ہے اور کمیشن میں ایک ریٹائرڈ جسٹس بھی شامل کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی میں بھی اتفاق رائے ہوا اور صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ تجویز کیا گیا ہے۔

یاد رہے اٹھارویں ترمیم کے مسودے پر رواں مہینے کی پچیس تاریخ کو دستخط ہونے تھے لیکن اس تقریب سے ایک گھنٹہ قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کے بارے میں حکومت اور ان کی جماعت میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا اس لیے آئینی پیکیج کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔

اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے اسمبلی میں واقع کمیٹی روم نمبر دو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بڑی سنجیدہ کوریج کی۔ انہوں نے مزید کہا ’میں پاکستان کی عوام کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتنا لمبا عرصہ اس کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کیا۔‘

ہمارے نامہ نگار ارمان صابر سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت کے تحفظات بہت حد تک دور ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک تحفظ ججوں کی تقرری کے جوڈیشل کمیشن پر تھا۔ ’اس کمیشن میں چھ اراکین تھے اور اگر ان میں ٹائی ہو جائے تو فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس پر کمیٹی میں اتفاق ہوا کہ ساتواں رکن شامل کیا جائے جو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس یا چیف جسٹس ہوں۔ تاہم اس پر بھی ہمارا تحفظ تھا کہ اگر ساتویں رکن کو منتخب کرنے پر بھی ٹائی ہو جائے تو پھر کیا ہو گا۔ اسی لیے ہماری تجویز تھی کہ پاکستان کے چیف جسٹس کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ ساتویں رکن کو منتخب کریں جس پر کمیٹی کا اتفاق ہوا ہے۔‘

احسن اقبال نے کہا کہ اب حکومت پر بہت بڑی ذمہ داری آ گئی ہے کہ وہ عام افراد کی مشکلات کو حل کرنے میں زیادہ کام کرے۔

میڈیا سے بات کرتہ ہوئے مسلم لیگ ق کے سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ اس مسودے کو ایک بار پھر پڑھنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ آج ہی پڑھ لیا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ ایک دو دن میں اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔

انہوں نے صوبہ سرحد کے نئے نام کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں اے این پی اور نواز لیگ میں مذاکرات ہو رہے تھے اور ان کی جماعت ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھی۔ ’جب دونوں جماعتوں نے نیا نام تجویز کیا تو ہماری جماعت اس سے متفق نہیں تھی اور اسی لیے ہم نے اس تجویز کے حوالے سے مسودے میں اختلافی نوٹ لکھا ہے۔‘

وفاقی وزیر برائے قانون بابر اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام ترامیم پر پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کی رائے اور اتفاق شامل ہے۔

اسی بارے میں