جنوبی وزیرستان میں کیا کچھ بدلا؟

بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا تعلق جنوبی وزیر ستان کے علاقے وانا سے ہے۔ دلاور خان وزیر تین سال بعد واپس جنوبی وزیرستان جا سکے ہیں۔ ان تین برسوں میں وزیرستان میں کیا کچھ بدلا پڑھیں اس مضمون میں۔

وانا
Image caption فوجی آپریشن کے دوران محسود قبائل کے علاقے میں تین سو دوکانوں کے بازار کو منہدم کر دیا گیا

جنوبی وزیرستان آبادی اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں میں سب بڑی ایجنسی ہے۔جنوب مغرب میں افغان سرحد کے ساتھ وزیر قبائل جبکہ شمال اور مشرق میں محسود قبائل آباد ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنوبی وزیرستان طالبان کا گڑھ بن گیا تھا۔

وزیر قبائل کے علاقے میں مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کا حکومت کے ساتھ امن معاہدہ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں امن امان قائم ہے۔ وزیر قبائل کے علاقے میں فوجی آپریشن کا خدشہ بھی کم ہی ہے۔

محسود قبائل کے علاقے میں بیت اللہ محسود گروپ کے طالبان موجود تھے۔ پاکستانی فوجی کی جانب سے آپریشن ’راہ نجات‘ میں سکیورٹی فورسز نےصرف محسود قبائل کے علاقے میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی کی جس میں نہ صرف طالبان کو علاقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ لاکھوں شہری علاقہ چھوڑ کر ٹانک، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوگئے۔ بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان شمالی وزیرستان، اورکزئی اور کُرم ایجنسی کے محفوظ مقامات پر چلےگئے ہیں۔

ٹانک سے جنوبی وزیرستان کےلیے دو راستے ہیں جن میں گومل زم اور جنڈولہ کے راستے شامل ہیں۔

گومل زم کے شاہراہ پر آٹھ مہینے پہلے میں اپنے والد کے نمازجنازہ کے لیے وانا گیا تھا لیکن جنڈولہ کے راستے پر تقریباً تین سالوں سے نہیں گزرا۔ تین سال کے بعد اس راستے پر جانے کا اب موقع ملا۔

واضح رہے کہ جنڈولہ؛ وانا شاہراہ علاقہ محسود میں سے گزر کر وانا تک پہنچتی ہے۔ آپریشن راہ نجات کے بعد اس راستے پر سفر دلچسپ رہا۔ علاقہ محسود میں وہی خُشک پہاڑی سلسلے تو موجود نظر آئے لیکن بازاروں اور عام رہائشی علاقے کا نقشہ بدلہ ہوا تھا۔

جنڈولہ کی شاہراہ پر آپ کو کوئی طالبان نظر نہیں آئےگے اور نہ ہی طالبان کی کوئی چیک پوسٹ ہے لیکن آپ کو جگہ جگہ پاکستانی فوج کی چیک پوسٹیں نظر آئی گی۔ چیک پوسٹوں کے دونوں اطراف پہاڑی چوٹیوں پر سکیورٹی فورسز کے مورچے موجود ہیں۔

Image caption محسود قبائل کے علاقے سے لوگ ہجرت کر کے چلے گئے ہیں

ہم دوپہر ایک دو بجے ٹانک سے جنڈولہ پہنچے۔ میرے ذہن میں جنڈولہ کی وہی پرانی یادیں اور تصاویر تھیں۔ ہم وانا سے ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ اسماعیل خان سے وانا جاتے ہوئے دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔

اس بار جنڈولہ پہنچ کر حیرت ہوئی کہ تین سو سے زیادہ دوکانوں پر مشتمل جنڈولہ بازار کا نام نشان نہیں تھا۔بلکہ یہاں تک کہ دوکانوں اور ہوٹلوں کا ملبہ بھی بلڈوزروں سے قریبی نالے میں پھینک دیاگیا تھا۔

جنڈولہ کے اس تباہ شدہ بازار سے ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر لوگوں نے روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لئے لکڑی کی چند دوکانیں یا کھوکے بنائے ہوئے تھے۔ ان دوکانوں پر شہریوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

جننڈولہ ہائی سکول کی شاندار عمارت اور جنڈولہ ٹیکنیکل کالج ویران پڑے تھے۔ ان عمارتوں کے سامنے اگر کوئی موجود تھا تو وہ تھے سیکورٹی فورسز کے اہلکار۔

جنڈولہ سے آگے دو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی وزیرستان کا علاقہ محسود چگملائی شروع ہوتا ہے۔ بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکار پہلے جنڈولہ کی طرف سے ٹینکوں کی مدد سے چگملائی میں داخل ہوئے تھے ۔

جنڈولہ سے آگے مدیجان تک چالیس کلومیٹر کے علاقے میں محسود قبائل آباد تھے۔ان چالیس کلومیٹر میں کوئی عام شہری نظر نہیں آتا بلکہ ہر طرف فوجی اہلکار نظر آتے ہیں۔

چگملائی کے مقام پر بھی پچاس سے ساٹھ تک دوکانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا بازار تھا لیکن آپریشن کے دوران اس بازار کو مسمار کر دیا گیا۔

جنڈولہ سے لے کر مدیجان تک سڑک کے کنارے قریب گھروں کو مکمل طور پر منہدم کردیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اپریل کے آخر تک بے گھر ہونے والے محسود قبائل کو ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ لیکن ان تباہ شدہ بازاروں اور گھروں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو بے گھر ہونے والے قبائل کو واپس لانے اور آباد کرنے میں کافی مُشکلات کا سامنا ہوگا۔

مولے خان سرائے، ڈیبہ اور سروکئی میں چھوٹے چھوٹے بازار ویران ہوگئے ہیں۔ علاقے میں رہائشی مکانات میں سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی ایک افسردہ کہانی بیان کرتی ہے۔

مجھے سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوا جب میں نے سڑک کے کنارے جھاڑیوں اور گھاٹیوں میں جگہ جگہ گھریلو جانوروں کو دیکھا جن میں گائے اور گدھے شامل تھے ۔ یہ جانور علاقے سے نکل مکانی کرنے والوں کے ہیں جو انہیں چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے ہیں۔

ویران و تباہ شدہ مکانات سے ایک خوف محسوس ہو رہا تھا۔میں خُود وانا کاایک رہائشی ہوں لیکن کچھ عرصے کے بعد وانا پہنچنے پر مجھے وانا بازار میں زیادہ رش نہ نظر آیا۔

محسود قبائل کے پورے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود تھے۔لیکن وزیر قبائل کے علاقے میں آرمی کی موجودگی صرف شاہراہوں تک محدود تھی۔دور دور پہاڑی سلسلوں اور وانا میدان میں ہر جگہ طالبان ہی طالبان تھے۔

چونکہ ہم وانا میں اس سکول کا افتتاح کرنےگئے تھےجو انیس سو بیاسی سے پولیٹکل انتظامیہ کے زیر انتظام چل رہا ہے۔ کچھ عرصے سے سکول کی حالت خراب ہوگئی تھی۔ اب وانا ویلفئیر ایسوسی ایشن کی کوششوں سے فوج نے دوبارہ سکول کو فعال بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

سکول کے افتتاح کے موقع پر چار پانچ سال بعد دوستوں اور قریبی رشتہ داروں سے مُلاقات کا موقع ملا۔ ان دوستوں میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ’ہماری کوئی زندگی نہیں۔ ھم وانا میں قیامت کی زندگی گزار رہے ہیں۔آپ خوُش قسمت ہے کہ وانا سے چلے گئے ہیں۔‘

وانا میں کچھ عرصہ پہلے رات کےاندھیرے میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی تھی لیکن اب وزیر قبائل اور سکیورٹی فورسز کے درمیان امن معاہدے کے بعد سے پورے علاقے میں امن امان قائم ہے۔اس امن معاہدے کو ملا نذیر کی حمایت بھی حاصل ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ مدثر شاہ کا کہنا تھا کہ محسود قبائل کا علاقہ تو مکمل طور پر خالی ہوچکا ہے۔

اب پولیٹکل انتظامیہ نے محسود قبائل کے مشیران سے جرگے شروع کیے ہیں۔ ان کو اُمید ہے کہ بہت جلد محسود قبائل واپس جانے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتالیس ہزار خاندان ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں رجسٹر ہوچکے ہیں۔واپس جانے والے ہر خاندان کو انتظامیہ کی طرف سے دو دو خیمے اور مناسب راشن دیا جائے گا۔

مگر جرگے کے ممبر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں میں سے بہت کم لوگ واپس جانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محسود قبائل کسی بھی صورت میں طالبان کے خلاف لشکر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جرگے کے ممبران صرف اس کوشش میں ہیں کہ وہ لوگوں کو واپس جانے پر امادہ کریں۔جرگہ ممبر کے مطابق طالبان کے خلاف لڑنا تو دور کی بات ہے طالبان کے خلاف لوگ بولنے کے لیے بھی تیار نہیں۔

اسی بارے میں