چار اپریل اور سوئس مقدمات کا ذکر

پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی اکتیسویں برسی گڑھی خدا بخش بھٹو میں منائی جا رہی ہے۔ برسی کی تقریبات میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے پیپلزپارٹی کے کارکنان نے شرکت کی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کا نمازِ جنازہ
Image caption بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم تھے جنہیں فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں پھانسی دی گئی

پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس نوڈیرو ہاؤس میں ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو کی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

چار اپریل کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے نوڈیرو میں ہونیوالے اجلاس میں سوئس مقدمات کے حوالے سے بھی ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کی۔

پیپلزپارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کی مخالفت کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف ٹرائل کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے پر احتجاج کیا جائیگا۔

پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس چار اپریل کو نوڈیرو میں ہر سال ہوتا ہے جو ایک رسمی سی قرارداد اور رات کے کھانے پر اختتام پذیر ہوتا ہے مگر دو ہزار دس کے چار اپریل کے اجلاس میں پہلی مرتبہ سوئس مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مقدمات دوبارہ کھولنے کی مخالفت باقاعدہ ایک قرارداد کے ذریعے کی گئی ہے۔

Image caption چار اپریل کے حوالے سے گڑھی خدا بخش بھٹو میں ایک محفلِ مشاعرہ بھی ہوا

سوئس مقدمات دوباہر کھولنے کے حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت ہیں۔ ان مقدمات کے حوالے سے پاکستان کے اٹارنی جنرل جمعے کے دن استعفی دے چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وزارت قانون سے انہیں تعاون حاصل نہیں ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد گڑھی خدابخش بھٹو میں جمع ہے۔ چار اپریل کی حوالے سے وہاں سیاسی جلسے سے قبل محفل مشاعرہ بھی ہوا۔ رات گئے پیپلزپارٹی کے کارکنان سے پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر آصف زرداری نے خطاب بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آمریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ وہ سیاسی مخالفت کے باوجود پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

صدر زرداری نے کہا کہ شہادت ان کی منزل اور عوامی خدمت ان کا ایمان ہے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ سے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ امریکی اشارے پر نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ا س جنگ میں انہیں پاکستانی عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کر کے قوم سے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔

اسی بارے میں