’بھٹو کا مقدمہ کھولا جائِے‘

ذوالفقار علی بھٹو کو انتہائی سخت سکیورٹی میں رکھا گیا پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ عدالتی قتل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس مقدمے کو ری اوپن یعنی دوبارہ کھلا جائے۔

وزیر اعظم گیلانی کے اس بیان نے اس بحث کو چھڑ دیا ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کے فیصلے کو ری اوپن کیا جاسکتا ہے یا نہیں اور ری اوپن کرنے کی صورت میں حکومت کو کیا اقدامات کرنے ہونگے۔

ماہرین قانون بھی بھٹو کیس کو ری اوپن کرنے کے بارے میں مختلف نکتہ نظر رکھتے ہیں ۔

یوسف رضا گیلانی کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلے کو ری اوپن کرنے کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھٹو کی اپنی سیاسی جماعت اس ملک میں برسراقتدار ہے اور ملک بھر ان کی اکتیس ویں برسی کے حوالے سے تقریبات ہورہی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ کو ری اوپن کرنے کی بات کی گئی ہو اس سے پہلے بھی اس طرح مطالبات سامنے آئے ہیں اور خود یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ برس یہ کہا تھا کہ بھٹو کے خلاف مقدے کو ری اوپن ہونا چاہئے اور عدالت بھی اس معاملے کا خود جائزہ لے کیونکہ بقول ان کے یہ عدالتی قتل تھا۔

Image caption ذوالفقار علی بھٹو کی تدفین فوج کے سخت پہرے میں کی گئی

سپریم کورٹ کے سات میں تین ججوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے پراختلاف کیا تھا تاہم اس سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست کو متفقہ طور پر مسترد کردیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے والے سپریم کورٹ کے بنچ کے ایک رکن جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ حیات ہیں اور انہوں نے اپنی کتاب میں یہ تذکرہ کیا کہ سابق وزیر اعظم اور بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو نے اس پختہ عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ اپنے والد کے خلاف مقدمہ کو ری اوپن کرائیں گی ۔

پیپلز پارٹی بھٹو کی پھانسی کے بعد تین مرتبہ اقتدار میں آچکی ہے تاہم سزائے موت کے فیصلے کو ری اوپن کرنے کے بارے میں کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔

جسٹس نسیم حسن شاہ ان ججوں میں شامل تھے جنہوں سزائے موت کے حق میں فیصلے دیا تھا اور چند برس قبل ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو اور ان کی سوانح حیات کی بنیاد پر پیپلز لائیرز فورم کے ایک عہدیدار میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے بھٹو کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرنے والے بنچ پر بھٹو کو سزا دینے کے لیے خاصا دباؤ تھا اور بھٹو کو شہادتوں کی بنیاد پر سزائے موت سے کم کی سزا دی جاسکتی تھی۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اس درخواست کو ابتدائی سماعت پر ہی مستردکردیا۔

گزشتہ برس سپریم کورٹ کےوکیل اظہر صدیق نے ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کو ری اوپن کروانے کا اعلان کیا اور اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کی جس میں بھٹو کے ٹرائل کے بارے میں مقدمے کے ریکارڈ کا معائنہ کرنے کی اجازت طلب کی ۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے بقول انہیں سربمہر ریکارڈ کا معائنہ کرنے کی اجازت دے دی گئی جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ میں ریکارڈ کی جانچ کی تاہم انہیں ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم نہیں کیں گیں حالانکہ اس مقصد کے لیے درخواست بھی دی گئی جو مسترد کردی گئی ۔

ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد مقامی وکیل کی طرف سے کیس کو ری اوپن کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ حکومت ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کو ری اوپن کرسکتی ہے جبکہ سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتراوصاف علی کہتے ہیں کہ نئے شواہد کی روشنی میں کسی مقدمے کو ری اوپن کیا جاسکتا ہے اور نئے شواہد اور وجوہات کی بغیر مقدمہ ری اوپن نہیں ہوسکتا۔

کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ بھٹو کیس ری اوپن نہیں ہوسکتا کیونکہ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کردی ہے اور دوبارہ ٹرائل کے لیے ملزم کا ہونا ضروری ہے۔

بعض ماہر قانون کا کہنا ہے کہ کیس کو ری اوپن کروانے کے لیے بھٹو خاندان کا کوئی فرد یا ان کی پارٹی کا کوئی عہدے دار عدالت سے رجوع کرسکتا ہے جبکہ اشتراوصاف کے بقول حکومت خود نئے شواہد کی بنا پر عدالت سے رجوع کرسکتی۔

سابق وزیرقانون اور اٹارنی جنرل سید اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور سب ان کے قاتلوں کو جانتے ہیں اور اس لیے اب بھٹو کیس کو ری اوپن کرنا بے مغی اور بے مقصد ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو پکڑا جائے۔