کڑے حفاظتی اقدامات، خطاب آج شام

فائل فوٹو

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پیر کو قومی اسمبلی اورسینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنا تیسرا خطاب کریں گے۔

صدر نے منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی طلب کیے ہیں اور امکانی طور پر قومی اسمبلی کے اسی اجلاس میں آئینی اصلاحاتی بل یا اٹھارویں ترمیم کی منظوری دے دی جائے گی۔

صدر کا پارلیمانی سال کے آغاز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا آئین کے تحت ضروری ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کے خطاب کے اگلے روز یعنی منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اہم اجلاس شروع ہوگا جس میں آئینی اصلاحات پر مشتمل اٹھارویں ترمیم کے بل پر بحث ہوگی اور امکانی طور پر اسی اجلاس میں اس کی منطوری دے دی جائے گی۔

پارلیمان کی آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے گذشتہ جمعہ کو اٹھارویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

اصلاحاتی کمیٹی کا مینڈیٹ فوجی سربراہان کے دور میں متعارف کردہ ترامیم ختم کرکے آئین کو انیس سو تہتر والی شکل میں بحال کرنا ہے۔

اٹھارویں ترمیم میں آئین کی ستانوے شقوں میں ترامیم کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ جن میں دو ہزار دو میں منظور ہونے والے ایل ایف او، سترہویں آئینی ترمیم، صوبوں سے متعلق کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے، صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے اور صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو واپس لے کر وزیر اعظم کو سونپنے جیسی اہم تجاویز شامل ہیں۔

میاں رضا ربانی نے جمعہ کے روز ایوان میں اٹھارویں ترامیم کا بل پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی اور جمہوری پاکستان کی بنیاد کو سامنے رکھتے ہوئے صوابدیدی اختیارات ختم کر کے اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ اس بل کی ہر شق پر مرحلہ وار بحث کے بعد ایوان کو دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری دینا ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد بل ایوان بالا یعنی سنیٹ بھیجا جائے گا جہاں سے اس کی توثیق کے بعد صدر کے پاس حتمی دستخط کے لیے اسے بھیج دیا جائے گا۔

اٹھارویں ترمیم کے مسودے پر پچیس مارچ کو دستخط ہونے تھے لیکن پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کی طرف سے ججوں کی بھرتی کے طریقہ کار اور صوبہ سرحد کے نام پر تحفظات کی وجہ سے اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔

ججوں کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی میں نواز لیگ کی تجاویز منظور کرنے اور صوبہ سرحد کے نام پر اتفاق کے بعد گذشتہ بدھ کو مسودے پر اتفاق رائے سے دستخط کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں