کراچی سے پشاور تک امریکی نشانے پر

پاکستان میں امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے چھ سال قبل شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔

امریکی قونصل خانے کا اہلکار
Image caption امریکی قونصل خانے کا اہلکار بم دھماکے کی جگہ پولیس کی پیلی ٹیپ سے محفوظ کر رہا ہے

ان ناخوشگوار واقعات کی ابتدا ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہوئی، جہاں دو مارچ انیس سو پچانوے کو امریکی قونصل خانے کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا، اس واقعے کے فوری بعد کراچی سے امریکی ویزے کی سروس معطل کردی گئی جو گزشتہ سال بحال کی گئی ہے۔

اس واقعے کے تقریباً دو سال بعد یعنی بارہ نومبر انیس سو ستانوے کو کراچی میں ہی یونین ٹیکساس پیٹرولیم کارپوریشن کے ایک آڈیٹر کو ڈرائیور سمیت اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ شیرٹن ہوٹل سے کہیں جا رہے تھے۔

ان دونوں واقعات کے بعد پانچ سالوں تک کسی امریکی شہری یا کسی اہلکار کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس عرصے میں دو ہزار ایک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ اور اس کے جواب میں افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حملہ ہو گیا۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل جب شدت پسندوں اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں پر سٹوری کے لیے کراچی پہنچے تو انہیں اغوا کرلیا گیا، یہ تئیس فروری دو ہزار دو کا واقعہ تھا۔ مئی کے دوسرے ہفتے میں کراچی کے قریب ایک ویران گھر سے ان کی لاش ملی ، اس سے قبل انہیں ذبح کرنے کی ویڈیو جاری کی گئی تھی۔

کراچی میں ان تین واقعات کے بعد امریکیوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ دارالحکومت اسلام آباد تک پھیل گیا۔ سترہ مارچ دو ہزار دو کو پروٹیسٹنٹ انٹرنیشنل چرچ پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی اہلکار بابرہ گرین اور ان کی بیٹی کرسٹین بھی شامل تھیں۔

اسی سال چودہ جون کو کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب ایک کار بم دھماکہ کیا گیا، جس میں گیارہ سے زائد افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہوگئے جن میں ایک امریکی شہری بھی شامل تھا۔

چار سال کے وقفے کے بعد دو ہزار چھ میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی پاکستان آمد سے قبل کراچی میں امریکی سفارتخانے کے قریب ایک خودکش حملہ کیا گیا ، جس میں ایک امریکی سفاتکار ڈیوڈ فوائے اور دو مقامی گارڈ ہلاک ہوئے۔

سولہ مارچ دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد میں ایک ہوٹل میں بم دھماکہ کیا گیا جس میں پانچ امریکی شہری زخمی ہوئے مقامی میڈیا کے مطابق ان میں امریکی ایجنٹ بھی شامل تھے۔

اسی سال بیس ستمبر کو میرئیٹ ہوٹل میں ایک خودکش بم حملے میں چون سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں دو امریکی فوجی شامل تھے، کہا جاتا ہے کہ جس وقت ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا اس وقت امریکی میرین کی ایک بڑی تعداد ہوٹل میں موجود تھی مگر اس کی بعد میں اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے تردید کی تھی۔

امریکیوں کے ساتھ ہاشوانی گروپ کو بھی ان حملوں سے مالی نقصان پہنچا ہے، کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں اسی گروپ کے ہوٹلوں میں امریکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

9 جون دوہزار نو کو پشاور میں ہوٹل پرل کانٹینٹل پر خودکش حملہ کیا گیا، جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے اور امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ وہ اس ہوٹل کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس واقعے کو اب جب ایک سال ہونے کو ہے پشاور میں امریکی قونصلیٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں