اٹھارویں ترمیم: اسمبلی میں پیش

سینیٹر رضا ربانی نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں اٹھارویں ترمیم کا بل بحث کے لیے پیش کردیا ہے۔

قومی اسمبلی میں منگل نجی کارروائی کا دن تھا تاہم وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نوید قمر نے دو تحریکیں پیش کیں۔ ایک تحریک میں سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے درخواست کی کہ نجی کارروائی کو معطل کر کے اٹھارویں ترمیم پیش کی جائے۔ اور دوسری تحریک میں ان کی درخواست تھی کہ جب تک اٹھارویں ترمیم کا بل منظور نہیں ہو جاتا تب تک دوسری کارروائی کو معطل رکھا جائے۔

یہ دونوں تحریکیں اتفاقِ رائے سے منظور کر لی گئیں جس کے بعد آئینی ترامیم کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے اٹھارویں ترمیم کا بل پیش کیا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آمروں کی آئین میں کی گئی ترامیم کے خاتمے پر اتفاق کیا۔

ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ اس ترمیم سے ادارے مضبوط ہوں گے نہ کہ شخصیات۔ ’اگر صدرِ مملکت رضا مند نہ ہوتے تو کبھی بھی اختیارات کے توازن کے اس بل پر اتفاق نہ ہوتا۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ نے اٹھارویں ترمیم کے مسودے کی منظوری دی۔

اسی بارے میں