آفاق احمد اور عامر خان کو عمر قید

کراچی میں ایک عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ آفاق احمد اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے رہنما عامر خان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے دونوں رہنماؤں کو یہ سزا ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی کے قتل کے الزام میں سنائی۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی ہارون صدیقی کے بھائی فاروق صدیقی کو انیس جون انیس سو بانوے میں قتل کردیا گیا تھا۔

مقدمے کی سماعت جیل کے احاطے ہی میں کی گئی۔

آفاق احمد سنہ دو ہزار چار سے اور عامر خان دو ہزار تین سے جیل میں ہیں۔ آفاق احمد پر قتل، اقدام قتل، اغواء، اسلحہ رکھنے اور دیگر الزامات سمیت تقریباً تیرہ مختلف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ عامر خان پر ایسے ہی الزامات کے چھ مقدمات بنائے گئے تھے۔

ہمارے نامہ نگار جعفر رضوی نے بتایا کہ بدھ کو سزا سنائے جانے کے بعد مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان خالد نقشبندی کا کہنا تھا کہ آفاق احمد پر تیرہ مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں سے بارہ میں انہیں بری کردیا گیا تھا اور اس ایک مقدمے میں انہیں اسلحہ کے الزام میں جو سزا سنائی گئی ہے مہاجر قومی موومنٹ پاکستان اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

کراچی سینٹرل جیل کے باہر آفاق احمد کی رہائی کے منتظر خالد نقشبندی کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ ’معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد ہی آئندہ کی حکمت عملی طے کی جاسکے گی۔‘

یاد رہے کہ سیاسی اختلافات سے قبل دونوں رہنما آج متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کہلانے والی جماعت سے بھی وابستہ رہے۔ اُس وقت متحدہ قومی موومنٹ مہاجر قومی موومنٹ کہلاتی تھی۔

تاہم بعد میں تنظیم کی قیادت سے سیاسی اختلافات کے بعد عامر خان اور آفاق احمد نے تنظیم کا علیحدہ دھڑا تشکیل دیا جسے بعد میں مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کا نام دیا گیا۔

دونوں رہنما کئی برس تک ایم کیو ایم حقیقی نامی تنظیم کی قیادت کرتے رہے جس نے آفاق احمد کو چیئرمین اور عامر خان کو سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا تھا۔

سنہ دو ہزار چھ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان بھی سیاسی اختلاف پیدا ہوا جس کے بعد آفاق احمد کی قیادت میں قائم دھڑے کو مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کا نام دے دیا گیا جبکہ عامر خان کی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کہلاتی ہے۔

اسی بارے میں