بڑی کامیابی پر سیاستدان خوش

پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں اٹھارویں ترمیم کی منظور پر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے رکن اسمبلی سعد رفیق نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ یہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہے اور یہ کہ ہمیں اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہمیں اس کے ثمرات پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئے سمیٹنے چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ملک میں ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے اور بہت عرصے بعد پاکستانیوں کو ایک اچھی خبر ملی ہے‘۔انہوں نے کہ ہم آصف علی زرداری کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ ضرفی کا مظاہرہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ پر اب بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ اب یہ بااختیار ہے اور اب ہم یہ جواز نہیں پیش کرسکتے ہیں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ہیں۔مسلم لیگ ق کی رکن اسمبلی ماروی میمن کے خیالات بھی مختلف نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ اٹھارویں ترمیم کی منظوری پارلیمانی جمہوریت کے لئے خوش آئیند ہے اور یہ کہ یہ اتفاق رائے پر مبنی سیاست کی نشاندہی کرتی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شروعات ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں اٹھارویں ترمیم کو منظور کرانے والوں میں شامل ہوں۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ انیسویں ترمیم ضروری بن چکی ہے کیوں کہ کچھ چیزیں رہ گئی ہیں اور ہم ان کے لئے انسیویں ترمیم لائیں گے۔

سنیٹر ڈاکڑ عبدالمالک نے کہا کہ’ ہمارا موقف رہا ہے کہ پاکستان کثیرالقومی ریاست ہے اور ہر قوم کی اپنی حثیت ہے اور اپنی زبان ہے اور اس کو قانونی طور پر مانا جانا چاہیے‘۔

سنیڑ عبدالمالک کا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ نیشنل پارٹی کے صدر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ دفاع، کرنسی، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ اگرچہ ہمارا موقف نہیں مانا گیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ، تیل اور گیس کے ذخائر میں نصف ملکیت دینا اور گوادر پورٹ کا کنڑول بلوچستان کو دینا ایک مثبت پیش رفت ہے‘ ۔

سنیٹر نے کہا’ جو خود بھی پارلیمان کی آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے رکن تھے‘ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے اور ہم اس کو مثبت سمجھتے ہیں اور یہ کہ ہم جمہوری حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں اور اس میں ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے‘۔

وزیر مملکت برائے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور مہرین انور راجہ کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے باعث پارلیمنٹ مظبوط ہوگی۔

مہرین راجہ اس کا کریڈٹ صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج آمریت کی حامی قوتوں پر کپکپی طاری ہوگی کہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے موقف رہتے ہوئے ایک جگہ جمع ہوگئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔

بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاء اللہ مینگل نے اٹھارویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم اگرسچ بھی ہو تو پھر بھی پنجاب چھوٹے صوبوں کو ان کے وسائل پر اختیارات نہیں دے گا۔

سردار عطاء مینگل کے بقول پنجاب نے چھوٹے صوبوں کو غلام بنا رکھا ہے اور اس وقت تک رکھیں گے جب تک ان صوبوں میں اتنی طاقت نہیں آئے گی کہ وہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر ان سے جان چھڑا لیں۔

پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے اٹھارویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس ترمیم سے نہ صرف ضیاء اور مشر ف کی باقیات کا خاتمہ ہوگیا بلکہ بلوچستان کے عوام کو ان کی خواہشات سے بھی زیادہ صوبائی خودمختاری ملی ہے۔

میر صادق عمرانی نے کہا کہ اس کا سہرا پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی ذرداری کو جاتا ہے جنہوں نے انیس سو تہتر کے آئین کے بعد پہلی بار قوم کو اٹھارویں ترمیم کی صور ت میں آئین کو بحال کیا ہے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری عبدالرؤف لالا نے آئینی ترمیم میں کنکرنٹ لسٹ کے خاتمہ کو پاکستان کی قوم پرست اور جمہوریت پسند جماعتوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان جماعتوں کی بدولت اس بل پر علمدرآمد یقینی ہے کیونکہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمہ سے مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا تعین ہوسکے گا اور صو بوں کو صوبائی خودمختاری کے حوالے وہ تمام اختیارات ملیں گے جس کے لیے قوم پرست جماعتوں نے ایک طویل جد وجہد کی ہےـ

اٹھارویں آئینی بل کی حمایت کرنے والے ان قوم پرست رہنماؤں نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر حکمرانوں نے اس پر عملدرآمد کو یقینی نہ بنایا توہ بلوچ ، پشتون اور سندھی دوبارہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کرنے پر مجبور ہوجائینگے ـ

اسی بارے میں