سات ماہ بعد، یونانی باشندہ بازباب

پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں حکام کا کہنا ہے کہ یونان سے تعلق رکھنے والے کیلاش تور میوزیم کے مغوی سربراہ افانا سیوش لیرونینذ کو بازیاب کرلیا گیا ہے۔

فائل فوٹو

چترال کے ضلعی رابط آفیسر رحمت اللہ وزیر نے بی بی سی کو بتایا ’بمبور علاقے سے اغواء ہونے والے کیلاش تور میوزیم کے سربراہ افانا سیوش لیرونینذ پاکستانی ایجنسیوں کی کوششوں سے بازیاب ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کا مطالبہ تھا کہ اُن کی رہائی کے بدلے بعض شدت پسندوں کو رہا کیا جائے لیکن حکومتِ پاکستان نے اُن کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا اور افانا سیوش لیرنینذ کی کی رہائی بغیر کسی شرط کے ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار نو میں مسلح افراد نے وادی کیلاش کے بمبورت علاقے سے کیلاش تور میوزیم کے سربراہ یونانی شہری افاناسیوش لیرونینذ کو اغواء کیا تھا۔ اس دوران اغواء کاروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

ضلعی رابط آفیسر کا کہنا تھا ’یونانی شہری دو ہزار ایک سے کیلاش میں رہائش پذیر تھے اور وہ کیلاش تور کے نام سے قائم میوزیم کی دیکھ بھال کررہے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ چترال میں طالبان سرگرم نہیں ہیں تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یونانی شہری کو شدت پسندوں نے اغواء کیا تھا۔

واضح رہے کہ ضلع چترال کوصوبہ سرحدمیں جاری شدت پسندی میں سب سے محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

ماضی میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی اہلکاروں کو اغواء کیا گیا جن میں سے ایک افغان اہلکار اختر کوہستانی کو اغواء کرنے کی ذمہ داری دیر کے طالبان نے قبول کرلی تھی۔

اختر کوہستانی کو بعد میں دیر کے جرگے کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں