فوج کا کوئی دباؤ نہیں تھا: گیلانی

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی سے اٹھارویں ترمیم پاس کرتے وقت فوج کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا اور فوج کی موجودہ قیادت ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا آئینی کردار احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے۔

سپیکر کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کے اعزاز میں جمعہ کو دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنہ اُنیس سو پچاسی سے لے کر سنہ دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلیوں میں فوج کی طرف سے کتنی مداخلت ہوتی رہی یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی مضبوطی اسی صورت میں ہی ممکن ہے جب تمام ادارے آئین میں دی گئی حدود میں رہ کر کام کریں۔

پارلیمنٹ کو اختیارات تفویض کرنے سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زردرای کو یہ بار ہا کہا گیا کہ صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو آئندہ صدارتی انتخابات کے موقع پر دیے جائیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے وزیر اعظم کے پاس بہت اختیارات ہوں گے لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ اُس کا احتساب کرنے کا حق رکھتی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری گُڈ گورنینس کی ایک ابتدا ہے اور ابھی حکومت کو بہت سی منزلیں طے کرنا ہوں گی۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں آئینی ترامیم کا بل پیش نہیں کیا جاسکا جبکہ وفاقی وزیر برائے محنت وافرادی قوت خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ترمیمی بل پیر کے روز سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پیر کے روز جب یہ ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا تو اس بات کا امکان ہے کہ وہاں سے بھی یہ بل کثرت رائے سے منظور کرلیا جائے گا۔

سینیٹ میں حکومت کی حمائیتی جماعتوں کے ارکان کی تعداد زیادہ ہے۔ اس وقت سینیٹ میں ارکان کی تعداد سو ہے جن میں سے ستر سے زائد ارکان اس ترمیمی بل کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے ارکان کی تعداد اکیس ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ اور صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خواہ رکھنے پر سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے ہم خیال گروپ سے تعلق رکھنے والے دو سینیٹروں سیلم سیف اللہ اور فوزیہ فخر زمان نے سینیٹ کے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔

اسی بارے میں