فوج سے جھڑپ، پندرہ شدت پسند ہلاک

Image caption لکی مروت ماضی میں بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتا رہا ہے

پاکستان میں فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مغربی صوبے میں ہونے والی شدید لڑائی میں پندرہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب شدت پسندوں نے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی اداروں کے قبضے میں ایک علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حملہ کیا۔

فوج کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ دو ہفتوں کی جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی کا علاقہ طالبان راہنما حکیم اللہ محسود کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

دریں اثناء صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت میں پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم حملہ آور مُبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس نے دونوں لاشوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

لکی مروت میں پولیس اہلکار عصمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صُبح پولیس کو اطلاع ملی تھا کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آور لکی مروت کے حدود میں داخل ہوگئے ہیں جس پر پولیس نے شہر اور آس پاس کے علاقوں میں موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر بارہ بجے کے بعد معلوم ہوا کہ موٹر سائیکل پر سوار دونوں حملہ اور لکی مروت سے دس کلومیٹر دور شمال کی جانب آمیر وانڈہ کے علاقے میں گُھوم رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری علاقے میں پہنچ گئی اور حملہ آوروں کو محاصرے میں لے لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی فائرنگ سے پہلے ایک حملہ آور نے بارودی مواد سے دھماکہ کیا جس کے نتیجہ میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا اور بعد میں زخمی ہونے والا حملہ آور بھی پولیس کی فائرنگ میں مارا گیا۔

مقامی صحافی مُرسلین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صُبح سے پولیس نے شہر اور مختلف بس اڈوں پر موٹر سائیکل سواروں کو چیک کررہے تھے۔اور کسی بھی موٹر سائیکل سوار کو آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

یاد رہے کہ دو جنوری دو ہزار دس کو لکی مروت کے علاقے شاہ حسن خیل میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کار بم حملہ اس وقت ہوا تھا جب والی بال گراؤنڈ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد میچ دیکھنے میں مصروف تھی۔