’ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اس کو محفوظ رکھنے کا ہمیں تیس سالہ تجربہ ہے۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں جوہری سکیورٹی سے متعلق سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

امریکی صدر براک اوباما کی سربراہی میں واشنگٹن میں پیر سے شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں ہندوستان اور پاکستان سمیت سینتالیس ممالک کے سربراہان شرکت کررہے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی نے امریکہ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اور دنیا کو یقین دلاتا ہوں پاکستان کا ایٹمی پرگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

اس اجلاس میں وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اس حوالے سے حکومت کو پوری قوم کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے پالیمان کی سکیورٹی کمیٹی کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔

وزیر اعظم گیلانی کی اس اجلاس کے علاوہ سربراہان کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کی امریکی صدر براک اوباما سے بھی باہمی ملاقات ہو گی۔

وزیر اعظم سے جب بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ ملاقات طے نہیں پائی ہے۔

ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ پاکستان کے وزرات خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ وزیر اعظم دنیا کو ان اقدامات کے بارے میں آگاہ کریں جو پاکستان نے گذشتہ کئی سالوں میں جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے ہیں۔

پاکستان اور بھارتی وزراء اعظم کی ملاقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا ’دونوں رہنما وہاں موجود ہوں گے اور وہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوں گے۔ ان کا آمنا سامنا ہوسکتا، وہ ہاتھ ملاسکتے ہیں اور اس کے آگے میں کچھ نہیں جانتا۔‘

ترجمان نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کے بارے میں امریکہ کی طرف سے اسلام آباد کو کسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ’پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور دباؤ کیوں ہوگا۔‘

اسی بارے میں