گیلانی اور اوباما کی ملاقات متوقع

پاکستان توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے اور یہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے: گیلانی پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی امریکہ کے صدر باراک اوباما کی طرف سے جوہری تحفظ کے حوالے سے بلائی گئی عالمی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے اتوار کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔

واشنگٹن میں پاکستان سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق صدر اوباما اور وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات اتوار کی شام کو متوقع ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ پہلے ہی واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ واشنگٹن میں بلائی گئی اس کانفرنس میں چالیس سے زیادہ ملکوں کے راہمنا شرکت کر رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والے دو ایسے ملک ہیں جنہوں نے جوہری عدم پھلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے پہلے ہی اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور وہ اپنی جگہ اپنی کابینہ کے وزیر کو اس کانفرنس میں اسرائیل کی نمائندگی کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کانفرس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا تھا کہ ترکی اور مصر اسرائیل کے جوہری پروگرام کا معاملہ اس کانفرنس میں اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسرائیل مشرق وسطیٰ میں واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں تاہم اسرائیل اپنے جوہری پروگرام اور جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ابہام رکھنے کی پالیسی پر کار بند ہے۔ اسرائیل نہ تو ان کی موجودگی سے نہ انکار کرتا ہے اور نہ ہی اقرار کرتا ہے۔

پاکستان ماضی میں جوہری ٹیکنالوجی اور آلات ایران اور لیبیا کو مبینہ طور پر فراہم کرنے کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی وجہ سے اس کانفرنس میں توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے واشنگٹن پہنچنے کے فوری بعد صدر باراک اوباما سے ملاقات متوقع ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم نے واشنگٹن جاتے ہوئے اپنے طیارے میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے اور اسے انھوں نے پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’فرینڈز آف پاکستان‘ سے قائم پاکستان کو امداد دینے والے ملکوں کا گروپ اس بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کریں گے۔

وزیر اعظم کی واشنگٹن روانگی سے ایک روز قبل پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے پر کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے اور پاکستان نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان نے اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے اور یہ اس کا آزادانہ فیصلہ ہے۔

اسی بارے میں