’سرکاری سکولوں کی تباہی کا سلسلہ جاری‘

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرکاری سکولوں اور تنصیبات پر شدت پسندوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ایک تازہ واقعہ میں ایک سرکاری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption تباہ ہونے والے سکولوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع ہے جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں: مقامی لوگ

پولیٹکل انتظامیہ مہمند کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح افراد نے تحصیل صافی کے دور افتادہ سرحدی علاقے کوز چمر کند میں لڑکوں کے ایک مڈل سکول کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے پانچ کمروں پر مشتمل عمارت تباہ ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ کوز چمر کند مہمند ایجنسی کا ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے جو پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں پچھلے چند ماہ سے سرکاری سکولوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک اس قسم کے واقعات میں چالیس کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کیا جاچکا ہے جب کہ سترہ کے قریب بنیادی صحت کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے سکولوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع ہے جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق شدت پسندوں کے حملوں میں پچاس کے قریب سکیورٹی فورسز کے پیکٹس یا چھوٹی چھوٹی چیک پوسٹیں بھی تباہ کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یہ حملے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب گزشتہ تین چار سالوں سے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تک واضح طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ ایجنسی کے کن کن علاقوں کو عسکریت پسندوں سے صاف کیا گیا ہے۔

اس غیر یقینی صورتحال کے دوران ایجنسی کے کئی مقامات سے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں درجنوں شدت پسند، سکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں