’ہزارہ صوبہ بن جائے، کوئی اعتراض نہیں‘

صوبہ سرحد کی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نے کہا کہ انہیں ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کے لیے قومی اسمبلی سے بل منظور کرانا پڑے گا۔

ایبٹ آباد میں مظاہرے
Image caption ہزارپ ڈویژن میں ہونے والے مظاہروں میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

عوامی نیشنل پارٹی کے ایڈیشنل سیکریڑی جنرل ہاشم بابر نے یہ بیان ایک ایسے مرحلے پر دیا ہے جب ہزارہ ڈویژن میں صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا جا رہا اور مسلم لیگ (ق) اس احتجاج میں آگے آگے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے ہزارہ ڈویژن میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کے خلاف موجودہ بے چینی کو مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی کشمکش قرار دیا لیکن مسلم لیگ (ق) کے رہنما اس کو مسترد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اٹھارویں ترمیم منظور کی گئی جس میں اور شقوں کے علاوہ صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔

صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کی تجویز کے حق میں دو سو چونسٹھ اراکین نے ووٹ دیا تھا جب کہ مسلم لیگ (ق) کے صرف بیس اراکین نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کی شق پر ووٹنگ کے دوران ہزارہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے دو اراکین سردار مہتاب عباسی اور میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ یا ایوان بالا کو بھیج دیا گیا جہاں اس پر بحث ہو رہی ہے۔

صوبہ سرحد کی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ایڈیشنل سیکریڑی جنرل ہاشم بابر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہزارہ ڈویژن یہ چاہتا ہے کہ وہ الگ صوبہ بن جائے تو وہ قومی اسمبلی میں بل پیش کریں اور دوتہائی اکثریت حاصل کرکے الگ صوبہ بن جائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی غداری نہیں ہے، نہ ہی اس میں کوئی برائی ہے، صوبے بنتے اور ٹوٹتے ہیں، زیادہ بھی ہوتے ہیں اور کم بھی ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کے خلاف ہزارہ ڈویژن میں احتجاج کو مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی کشمکش کا نتیجہ قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) ہزارہ ڈویژن میں سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے جس کی وجہ سے وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

ہاشم بابر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے پختونخواہ رکھنے کی حمایت کی بلکہ اس کے ساتھ خیبر کا اضافہ مسلم لیگ (ن) نے ہی کیا اور مسلم لیگ (ق) یہ سمجھتی ہے کہ اگر وہ مخالفت کریں گے تو ہزارہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو ان کے ساتھ شامل ہوجائیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ’میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آخر ان کو خیبر پختونخواہ کے نام سے کیوں چڑ ہے جبکہ خیر بھی اسی علاقے کا حصہ ہے اور پختوانخواہ میں چھہتر فیصد پختون آباد ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’ مسلم لیگ (ق) کو چاہیئے کہ وہ ہزارہ ڈویژن کے شہروں کے پرانے نام ہٹا دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہری پور ہری سنگھ کے نام پر ہے، مانسہرہ مان سنگھ کے نام پر ہے اور ایبٹ آباد سر ایبٹ کے نام پر ہے۔ یہ وہ نام ہیں جھنوں نے ہم پر ظلم ڈھائے ہیں اور جن کے تحت ہم نو آبادی رہ چکے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کو چاہیئے کہ وہ جمہوری طریقے سے ان ناموں کو بدلنے کے لیے تحریک چلائیں اور ہم اس میں ان کا ساتھ دیں گے۔

قومی اسمبلی میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے دو اراکین مہتاب عباسی اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے مخالفت پر ہاشم بابر کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی مجبوریاں ہیں جس کا وہ احترام کرتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں ان کو داد دیتا ہوں کہ وہ سڑکوں پر نہیں نکلے۔

مسلم لیگ (ق) کے صوبہ سرحد کے صدر امیر مقام کا موقف ہے کہ ہزارہ ڈویژن کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جھنوں نے صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھ کر ایک نان ایشو کو ایشو بنا دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’چونسٹھ سال سے ہمارے صوبے کا ایک نام ہے اور اس میں کوئی خرابی نہیں تھی اور اب لسانی بنیادوں پر یہ مسئلہ پیدا کیا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کا بہت نقصان ہوگا اور ہزارہ ڈویژن میں پائی جانے والی بے چینی پورے صوبے اور ملک میں پھیل سکتی ہے اور اس کے ذمہ دار تمام سیاسی رہنما ہوں گے‘۔

سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ وہ ہزارہ ڈویژن کے لوگوں کے تحفظات دور کریں گے۔

اسی بارے میں