سندھ کے قدیم جین مندر

وہ ننگے پاؤں اور منہ پر کپڑا باندھ کر چلتے اور سرشام کھانا پکالیتے اور گھروں میں روشنی نہیں رکھتے تاکہ کسی جاندار کو نقصان نہ پہنچے۔ ان خصوصیات کے حامل یہ تھے جین دھرم کے لوگ جن کے برسوں پرانے مندر آج بھی سندھ میں موجود ہیں۔

جین مندر
Image caption ان مندروں کے تحفظ کا ذمہ دار محکمہ نوادارت ہے

سندھ کا صحرائی علاقہ تھر کسی دور میں جین دھرم کے لوگوں کا بڑا مسکن ہوا کرتا تھا مگر آج ان لوگوں کی یادیں صرف پچاسی سالہ علی نواز کھوسو سمیت صرف چند لوگوں کے ذہنوں میں ہیں یا ان کے کچھ یاد گار قدیم مندر ان کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں، یہ مندر بھی وقت گزرنے کے ساتھ مخدوش ہو رہے ہیں۔

تقریباً چھ سو سال قبل مسیح میں مہاویر نامی شخص نے جین دھرم کی بنیاد رکھی تھی، کچھ محقیقن کا کہنا ہے کہ جین ہندو دھرم کی ایک شاخ ہے تاہمکئئ محققین کے مطابق یہ بدھ مذھب کے زیادہ قریب ہے۔

Image caption جین مذھب بدھ مت کے قریب سمجھا جاتا ہے

تھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی سے تقریباً سوا سو کلومیٹر دور موجودہ ویرا واہ شہر اور سابق پاری نگر، بھوڈیسر اور ننگر پارکر شہر میں موجود جین دھرم کے ان مندروں کا شمار اس خطے کے قدیم مندروں میں ہوتا ہے۔

محکمہ نوادرات کے ڈائریکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ خطہ جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہے۔ ’اسلام کی آمد سے پہلے سے لے کر تیرھویں صدی تک جین کمیونٹی نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ کمیونٹی خوشحال ہوئی تو انہوں نے یہ مندر تعمیر کرائے موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

ویراہ واہ کے قریب رن آف کچھ کا علاقہ موجود ہے، کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں سمندر بہتا تھا اور پاری نگر اس کی بندرگاہ تھی اور جین دھرم کے لوگ اسی بحری راستے تجارت کرتے تھے۔

کلیم اللہ لاشاری کے مطابق سمندر کے رخ تبدیل کرنے کے ساتھ یہاں کاروباری سرگرمیاں مانند پڑ گئیں جس کے بعد جینی لوگوں کا دارومدار خشکی کے راستے پر ہوگیا جو بہت دشوار گزار تھا اس لیے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ تاجروں کو دشواری ہوئی۔

Image caption ان تصاویر میں یاتریوں کو مندر کی طرف آتے دکھایا گیا ہے

جین دھرم کے پانچ اہم اصول یہ ہیں: عدم تشدد، سچ گوئی، چوری نہ کرنا، پاکیزگی اور دولت کی لالچ سے خود کو دور رکھنا۔ اس دھرم کے پیروکار فطرت دوست تصور کیے جاتے تھے۔

ننگر پارکر کے بزرگ، پچاسی سالہ اللہ نواز کھوسو کا کہنا ہے کہ جینی لوگ انسانوں کے ساتھ جانوروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اور وہ سورج غروب ہونے سےقبل ہی کھانا کھالیتے تھے۔ گھروں میں بتی یا دیئا روشن نہیں کرتے تاکہ کیڑے مکوڑے اس سے جل کر ہلاک نہ ہوجائیں اور اس کے علاوہ جانوروں اور کتوں کو خوراک فراہم کرتے تھے۔ .

Image caption ننگر پارکر کے پچاسی سالہ اللہ نواز کھوسو کا کہنا ہے کہ جینی انسانوں کے علاوہ جانوروں کا بھی خیال رکھتے تھے

ننگر پارکر میں واقع کارونجھر پہاڑ کے درمیان موجود مندر کے بزرگ پوجاری چنی لال بھی ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے آخری جینی خاندان کو دیکھا تھا، ان کے مطابق ویراہ واہ، بھوڈیسر، ننگر، ڈانو دھاندل اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں جینی رہتے تھے ۔

قیام پاکستان کے بعد بھی جینی ان علاقوں میں موجود تھے مگر ان کی تعداد میں بتدریج کمی ہوتی گئی۔

اللہ نواز کھوسو کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور جنگوں نے جینی لوگوں کو آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔’ان کی پوجا تو کافی عرصے سے بند ہوگئی تھی۔ پاکستان بننے کے سال میں وہ اپنی مورتیاں لے کر یہاں سے چلے گئے، باقی جو چند خاندان موجود تھے وہ بھی انیس سو اکہتر میں چلے گئے۔

Image caption مندر کی چھت پر خوبصورت نقش بنے ہیں

حکومت پاکستان نے جین دھرم کے ان مندروں کو قومی ورثہ قرار دیا ہے مگر ان مندروں کے باہر نصب ہدایت نامے کے علاوہ ان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔

بھارت میں جب بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا رد عمل ننگر پارکر تک دیکھا گیا اور کچھ لوگوں نے جین مندروں کو نقصان پہنچایا، دو ہزار ایک میں آنے والے زلزلے میں ان مندروں کے کچھ حصے ٹوٹ ہوگئے۔

محکمہ نوادارت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ ان مندروں کے تحفظ کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق زلزلے سے متاثرہ بھوڈیسر کے مندر کے تحفظ اور باقی دو مندروں کی مرمت کی جائے گی اور اس کے علاوہ ان علاقوں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنایا جارہا ہے۔

انیسویں صدی میں برطانوی راج کے اہلکار کیپٹن سٹنلے نپیئر نے اپنی تحریری یادداشتوں میں بھی ان مندروں کو شاہکار قرار دیا ہے۔

Image caption مندر کی دیوار پر بنی تصاویر اور لکھائی

پاکستان میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سیاحت میں کمی ہوئی ہے مگر تھر کا خطے ابھی تک پر امن ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں جب بہتری آتی ہے تو بھارت میں رہنے والے جینی ان مندروں کی زیارت کے لیے آتے ہیں مگر اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات نظر نہیں آتے۔

اسی بارے میں