’کراچی ہمارا ہے تمہارا نہیں‘پوسٹر آویزاں

کراچی پوسٹر
Image caption کراچی میں طالبانائزیشن کی جب بات چلی تھی تو اس وقت سندھ بچاؤ تحریک کے نام سے ایسے پوسٹر لگائےگئے تھے

کراچی شہر کی دیواروں پر آویزاں ایسے پوسٹر اور بینر شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ’ کراچی ہمارا ہے تمہارا نہیں، سر سید کی ہم اولاد ہیں ٹیپو کی ہم للکار ہیں، بانیان پاکستان کی ہم اولاد ہیں، ہمارا شہر، ہمارا کراچی جہاں ہم پیدا ہوئے اس برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔

ان پوسٹرز میں شہر میں موبائل چھیننے، ڈکیتی، قتل، اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصولی کا ذکر کیاگیا ہے اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر اس شہر میں کون نام نہاد امن کمیٹیاں بنا رہا ہے اور کون گینگ وار اور غنڈہ گردی کا سرپرست ہے۔ کراچی بچاؤ کمیٹی کے مطابق ’وہ اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں وہ ہی اسی شہر کے وارث ہیں۔‘

کراچی میں طالبانائزیشن کی جب بات چلی تھی تو اس وقت سندھ بچاؤ تحریک کے نام سے ایسے پوسٹر لگائےگئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ پوسٹر میں جو موقف اختیار کیاگیا ہے وہی موقف متحدہ قومی موومنٹ اختیار کرتی رہی ہے۔ چند ماہ قبل جب پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں کشیدگی عروج پر تھی تو ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ایسے بیانات سامنے آئے تھے جن میں پیپلز امن کمیٹی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے بیان کیاگیا تھا اور بلدیاتی نظام میں ترامیم کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان سے کراچی چھینا چاہتی ہے۔ ان دونوں باتوں کا ان پوسٹروں میں ذکر کیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری نے ان پوسٹروں سے لاعلمی کا اظہار کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ تو اچھی بات ہے اگر کوئی کراچی کو بچانا چاہ رہا ہے۔

ان کے مطابق متحدہ اپنا موقف اپنے پلیٹ فارم سے جاری کرتی ہے اور وہ مسائل سامنے لانے سے کتراتے نہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایم کیو ایم کسی کے نام پر ایسا کرے گی۔ تاہم فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ مختلف ایشوز کے بارے میں ایم کیو ایم کا جو موقف ہے اس کے بہت سارے ہم خیال لوگ ہوسکتے ہیں مگر انہیں ان کمیٹیوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویزن کے صدر نجی عالم کا کہنا ہے کہ مستقل ایسی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں ان کی جماعت کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق انہیں یہ تو علم نہیں ہے کہ کس نے یہ پوسٹر لگائے ہیں مگر لینڈ مافیا وہ ہیں جنہوں نے پارکوں پر قبضہ کرکے ان پر گھر بنا دیئے اس سے بڑی لینڈ مافیا ہو ہی نہیں سکتی۔

نجی عالم کے مطابق پیپلز امن کمیٹی اپنی جگہ موجود ہے مگر وہ تنظیمی ضابطے کے اندر نہیں ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، ان کا خیال تھا کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات کے پس منطر میں پیپلز پارٹی پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور حکومت نے جو کارنامے سرانجام دیئے ہیں انہیں دبایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ حکمران اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ابھی تک بلدیاتی نظام میں ترامیم پر اتفاق نہیں کرسکی ہیں، سندھ اسمبلی نے جب بلدیاتی اداروں کو تحلیل کیا تھا تو رواں سال ماہ مئی میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام پر اتفاق نہ ہونےکی وجہ سے دونوں جماعتوں میں ایک مرتبہ پھر سرد جنگ شروع ہوچکی ہے، جس کے سائے مختلف صورتوں میں نظر آرہے ہیں۔

اسی بارے میں