’ایک ماہ میں پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام‘

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزارت داخلہ اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پولیس آرڈر سنہ دوہزار دو کے تحت ایک ماہ کے اندر پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لائیں۔

فائل فوٹو
Image caption اس سے بڑھ کر انسانیت کی اور کیا تذلیل ہوسکتی ہے کہ ایک شخص کو برہنہ کرکے اُسے تشدد کا نشانہ بنایا جائے:چیف جسٹس

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ یہ پبلک سیفٹی کمیشن وفاق، صوبے اور ضلعی سطح پر قائم کیے جائیں اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں رپورٹ جمع کروائیں۔

منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی طرف سے عوام کو سرعام تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات کی از خود نوٹس کی سماعت کی۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ عوام پر تشدد کے مرتکب پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرکے اُن کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض رسمی کارروائی ہے اور ایسے جُرم کا ارتکاب کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے تھی۔

ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف مزید شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں تاکہ ایسے پولیس اہلکاروں کو عبرت کا نشان بنایا جاسکے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب ان واقعات کی ویڈیو موجود ہے تو پھر مزید شواہد کی کیا ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کی طرف سے ان واقعات کا نوٹس نہ لینے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس ضمن میں پنجاب حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کردیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پولیس تشدد کے واقعات کے سدباب کے لیے پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام ضروری ہے تاکہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ضلع کی سطح پر ہی کارروائی کی جاسکے۔ بعدازاں عدالت نے پولیس تشدد کے از خود نوٹس کو نمٹا دیا۔

اسی بارے میں